1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مہاجرین کی رہائش گاہوں پر حملوں میں اضافہ

جرمن حکام کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے دس ماہ کے دوران جرمنی میں پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں پر حملوں میں گزشتہ سال اسی مدت کے دورانیے کی نسبت تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

Aue Brandanschlag Flüchtlingsheim (picture-alliance/AP Photo/J. Stratenschulte)

پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں جرمنی آمد کے بعد سے ’غیر ملکیوں‘ کی جانب معاندانہ طرزِ عمل اپنایا جانے لگا ہے

جرمنی کے فیڈرل کرائم آفس کے آج  بروزِ ہفتہ پانچ اکتوبر کو جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار کے مطابق  اگرچہ جرمنی پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود اُن کے خلاف جرائم اور حملوں میں گزشتہ برس کی نسبت اضافہ دکھنے میں آیا ہے۔

 جرمن فیڈرل کرائم آفس نے جرمن اخبار ’نوئن اوسنا بروئکر‘ کو بتایا کہ رواں برس جنوری اور اکتوبر کے درمیان مہاجرین کی رہائش گاہوں پر حملوں کے آٹھ سو بتیس واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ سن دو ہزار پندرہ کے پہلے دس ماہ میں ایسے چھ سو سینتیس واقعات درج کیے گئے تھے۔

 تاہم فیڈرل کرائم آفس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال کے آغاز سے حملوں  میں کمی کے باعث جرائم کی شرح میں گراوٹ کا رحجان پایا جاتا ہے اور  اگر حالیہ مہینوں میں پناہ گزینوں کے خلاف جرائم میں کمی کا یہ رحجان جاری رہتا ہے تو سن دو ہزار سولہ میں ایسے کُل حملوں کی تعداد  مجموعی طور پر گزشتہ برس ہوئے ایک ہزار اکتیس حملوں کے مقابلے میں کم ہو گی۔

Deutschland Gegen Flüchtlinge gerichtetes Plakat in Nauen (picture-alliance/AP Photo/F. Ostrop)

 تارکینِ وطن کے خلاف زیادہ تر حملوں کا ارتکاب دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے کیا گیا  ہے

 تارکینِ وطن کے خلاف زیادہ تر حملوں کا ارتکاب دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے کیا گیا  ہے اور اِن واقعات میں زیادہ نقصان املاک کو پہنچا۔ یاد رہے کہ سن دو ہزار پندرہ میں جرمن چانسلر میرکل کی حکومت کی جانب سے ایک ملین کے قریب مہاجرین کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دینے کے خلاف ملک میں  دائیں بازو کے نظریات کے حامل انتہا پسندوں نے اپنے ردّعمل کا اظہار پوری شدت سے کیا۔

پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں جرمنی آمد کے بعد سے ’غیر ملکیوں‘ کی جانب معاندانہ طرزِ عمل اپنایا جانے لگا ہے اور پناہ گزینوں کے لیے مختص متعدد رہائش گاہوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رونما ہوئے۔