1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی: مہاجرین پر حملوں کی منصوبہ بندی، چھاپے اور گرفتاریاں

جرمن حکام نے بدھ پچیس جنوری کو علی الصبح انتہائی دائیں بازو کے مشتبہ شدت پسندوں کی تلاش میں چھاپے مارے۔ وفاقی دفتر استغاثہ کے مطابق یہ افراد مہاجرین، یہودیوں اور پولیس کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

وفاقی دفتر استغاثہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کےمطابق پولیس نے دائیں بازو کی شدت پسند تنظیم بنانے کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی سلسلے میں چھ مختلف جرمن ریاستوں میں 12 مختلف گھروں اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے اور کم از کم دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

ایک گرفتار شُدہ شخص کی عمر باسٹھ برس ہے اور وہ اس موومنٹ کا رکن ہے، جو جرمن ریاست کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس شخص کو شویٹسنگن نامی شہر سے گرفتار کیا گیا۔ اس شخص پر ایک ایسے دہشت گرد گروپ کی تشکیل کا شبہ ہے، جس نے برلن کے ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق اسلحہ اور گولہ بارود بھی حاصل کر لیا تھا۔ ایک دوسرے شخص کو، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، برلن سے حراست میں لیا گیا۔

وفاقی دفتر استغاثہ کے بیان کے مطابق ’’ابتدائی طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہنے والے‘‘ چھ مشتبہ افراد پر ’رائش سٹیزنز موومنٹ‘ نامی ایک گروپ بنانے کا الزام ہے۔ اس گروپ نے 2016ء کے آغاز میں پولیس افسران، سیاسی پناہ کے متلاشیوں اور یہودی کمیونٹی کے ارکان پر مسلح حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔

سات دیگر افراد کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے اس گروپ کو اپنی خدمات پیش کی تھیں، جن میں اسلحے کا حصول بھی شامل ہے۔ وفاقی دفتر استغاثہ کے بیان کے مطابق، ’’آج کے چھاپوں کا مقصد اس گروپ کی تشکیل اور مشتبہ جرائم کے حوالے سے شواہد اکھٹے کرنا اور ایسی چیزیں حاصل کرنا تھا، جو ان ممکنہ جرائم میں استعمال ہو سکتی ہوں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’ابھی تک خاص طور پر حملوں کے منصوبوں کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے۔‘‘

Deutschland Prozess gegen IS-Sympathisantin Safia S. (picture-alliance/dpa/H. Hollemann)

ان چھاپوں میں 200 کے قریب پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان چھاپوں میں 200 کے قریب پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا تاہم جرمنی کے جنوب مغربی شہر کالسروہے میں قائم دفتر استغاثہ نے اس بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس گروپ کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ’’رائش بُرگر‘‘ یا رائش کے شہریوں نامی تحریک سے وابستہ تھا۔ اس تنظیم پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کے خلاف گزشتہ برس اکتوبر میں جرمنی کے ایک جنوبی شہر گیورگینز گیمنڈ میں مارے جانے والے ایک چھاپے کے دوران اِس کے ارکان نے فائرنگ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک جبکہ تین کو زخمی کر دیا تھا۔

گزشتہ برس اگست میں اس گروپ کے ایک رُکن نے مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں پولیس کی اُس پارٹی پر فائرنگ کر دی تھی، جس کے پاس اِس شخص کے گھر کی تلاشی لینے کا وارنٹ تھا۔ یہ 41 سالہ مسلح شخص بھی جوابی فائرنگ سے زخمی ہو گیا تھا جبکہ تین پولیس اہلکاروں کو معمولی زخم آئے تھے۔