1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مہاجرین سے متعلق اداروں میں ایک لاکھ ملازمین کم ہیں

جرمنی میں سرکاری ملازمین کی ملکی تنظیم کا کہنا ہے کہ ملک میں تارکین وطن کے انضمام اور ان سے متعلق دیگر امور سے نمٹنے کے لیے سرکاری اداروں میں ایک لاکھ ملازمین کی کمی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی میں سرکاری ملازمین کی وفاقی تنظیم کے صدر کلاؤس ڈاؤڈرشٹیٹ کا کہنا ہے کہ جرمنی میں تارکین وطن کے انضمام اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے لیے ملکی اداروں میں مزید ایک لاکھ ملازمین کی ضرورت ہے۔

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

جرمنی نے اس سال اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

آج ہفتہ تئیس اپریل کے روز ایک مقامی جرمن اخبار کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ڈاؤڈرشٹیٹ کا کہنا تھا، ’’صرف تارکین وطن کے انضمام اور ان سے متعلق دیگر امور سے نبرد آزما ہونے کے لیے جرمنی میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک سرکاری ملازمین کی کمی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم و تدریس، پولیس اور وفاقی دفتر برائے مہاجرین و تارکین وطن جیسے اداروں میں ملازمین کی کمی کو پورا کرنا فوری طور پر ممکن نہیں ہے کیوں کہ صرف ملازمین کی باقاعدہ تربیت کرنے کے لیے بھی کم از کم تین سال لگتے ہیں۔

مذکورہ انٹرویو میں جرمن سرکاری ملازمین کی تنظیم کے صدر نے ریاست کی جانب سے سرکاری ملازمین پر توجہ نہ دینے کی شکایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا، ’’سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ التوا کا شکار ہے اور ان کے کام کی قدر و قیمت کا احساس بھی نہیں کیا جا رہا۔ ہماری رائے میں یہ کام فوراﹰ کیے جانے چاہییں اور ہم منتظر ہیں کہ ریاست ان ہزاروں ملازمین کی عوامی خدمات، جو مثال کے طور پر مہاجرین کے بحران میں دن رات کام کر رہے ہیں، کا جلد ہی اعتراف کرے گی۔‘‘

ڈاؤڈرشٹیٹ نے چند محکموں میں ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائے جانے کے خلاف کی جانے والی ہڑتال میں توسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’بلدیاتی سطح پر ہسپتالوں کے بعد ڈے کیئر سينٹرز، عوامی فلاح کے ادارے اور یوٹیلیٹی اداروں میں ہڑتال کی جا سکتی ہے۔‘‘ ڈاؤڈرشٹیٹ کے مطابق فی الحال علاقائی سطح پر ہڑتال کا اعلان نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تنخواہوں میں جلد ہی خاطر خواہ اضافہ کر دیا جائے گا۔

سرکاری محکموں کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں دو سال کے لیے تین فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن لیبر یونینز کا مطالبہ ہے کہ اس میں چھ فیصد مزید اضافہ کیا جائے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ترکی سے مہاجرین کی یورپ قانونی آمد بھی شروع

DW.COM