1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمنی مہاجرين کے ليے دروازے بند نہيں کرے گا‘

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے مہاجرين کے حوالے سے برلن حکومت کی پاليسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ يہ پاليسی برقرار رکھی جائے گی اور اُن کا ملک مہاجرين کے ليے اپنے دروازے بند نہيں کرے گا۔

جرمن چانسلر نے مہاجرين سے متعلق بحران سے نمٹنے کے حوالے سے کہا، ’’ہم يہ کر ليں گے۔‘‘ اُن کے بقول وہ اِس بحران کا حل تلاش کرنے کے حوالے سے پر اعتماد ہيں اور اِس مسئلے سے نمٹنے کے ليے جرمنی ميں حالات بہت سازگار ہيں۔ جرمن چانسلر نے يہ بات بدھ کی رات ايک ٹيلی وژن انٹرويو کے دوران کہی۔

يہ امر اہم ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں جرمن چانسلر کی پاليسی کی وجہ سے ملکی سطح پر اُن کی مقبوليت ميں کمی واقع ہوئی ہے۔ ميرکل کو اپنی سياسی جماعت کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی CDU اور بالخصوص رياست باويريا ميں اُس کی اتحادی جماعت کرسچن سوشل يونين CSU کی جانب سے تنقيد کا سامنا رہا ہے۔

ٹيلی وژن انٹرويو کے دوران چانسلر ميرکل نے کہا، ’’جب آپ کوئی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں، تو آپ بہت کچھ حاصل کر سکتے ہيں۔‘‘ اُنہوں نے مزيد کہا کہ وہ يقين کے ساتھ کہہ سکتی ہيں کہ برلن حکومت اِس بحران سے نمٹنے ميں کامياب رہے گی۔ چانسلر ميرکل کے مطابق موجودہ بحران کا حل آسان نہيں اور نہ ہی اب يہ ممکن ہے کہ جرمنی کی سرحد بند کر دی جائے۔ اُنہوں نے کہا، ’’مہاجرين کی جرمنی آمد کے سلسلے کو روکا نہيں جائے گا۔‘‘ چانسلر ميرکل کے بقول وہ ايسی کسی مقابلے کی دوڑ کا حصہ نہيں بنيں گی، جس کے تحت مہاجرين کے ساتھ ’غير دوستانہ‘ رويہ اختيار کيا جائے تاکہ وہ جرمنی آنے کا فيصلہ ترک کر ديں۔

اِس موقع پر چانسلر ميرکل نے جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر کی بھی حمايت کی، جو اِس بحران کے تناظر ميں کافی دباؤ کا شکار ہيں۔ ميرکل کے بقول ڈے ميزيئر کی اُنہيں اِس وقت سب سے زيادہ ضرورت ہے اور اُنہيں ہر گز اُن کے عہدے سے نہيں ہٹايا جائے گا۔ جرمن چانسلر نے زور ديا کہ مہاجرين کی سياسی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کا عمل صحيح انداز ميں ہو اور مہاجرين کو مختلف يورپی ممالک ميں منصفانہ بنيادوں پر تقسيم کيا جائے۔

جمعے کے روز نوبل امن انعام کا اعلان کيا جانا ہے اور اِس حوالے سے پيشن گوئياں کی جا رہی ہيں کہ مہاجرين سے متعلق اپنی ’ فراخ دل‘ پاليسی اور مشرقی يوکرائن ميں جنگ بندی کے ليے اپنی کوششوں کی وجہ سے وہ اس انعام کی حقدار قرار دی جا سکتی ہیں۔ ميرکل نے اِس بارے ميں ایک سوال کا جواب ديتے ہوئے کہا کہ وہ اِن دنوں کافی مصروف ہيں اور اِس بارے ميں بات چيت بھی اُنہيں افسردہ کر ديتی ہے۔