1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی ميں سياسی پناہ کی درخواستوں ميں نماياں کمی

ايک جرمن اخبار ميں شائع ہونے والی ايک رپورٹ کے مطابق جرمنی ميں سال رواں کے پہلے چھ ماہ ميں جمع کرائی جانے والی سياسی پناہ کی درخواستوں ميں نماياں کمی نوٹ کی گئی ہے۔

جرمن اخبار ’دی ويلٹ‘ ميں جمعہ آٹھ جولائی کے روز شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق سن 2016 کے پہلے چھ ماہ ميں جرمنی ميں مجموعی طور پر سياسی پناہ کی ڈھائی لاکھ کے قريب درخواستيں جمع کرائی گئيں۔ جمعرات سات جولائی تک جمع کرائی جانے والی درخواستوں کی کُل تعداد 225,368 تھی۔ يہ اعداد و شمار اندراج کے ’ايزی‘ نامی نظام سے حاصل کيے گئے ہيں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق درخواستوں کی تعداد ميں کمی کے سبب اب اندراج ميں تاخير بھی نہیں ہو رہی اور ايسے افراد کی تعداد ميں کمی بھی ہو رہی ہے، جو درخواست دہندگان کی زيادہ تعداد کی وجہ سے کافی عرصے سے اندراج کے منتظر ہيں۔

گزشتہ برس يعنی سن 2015 ميں مجموعی طور پر 1,091,894 مہاجرين سياسی پناہ کے ليے جرمنی پہنچے۔ ان پناہ گزينوں کا تعلق اکثريتی طور پر شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور چند شمالی افريقی ملکوں سے ہے۔

يہ امر  اہم ہے کہ جمعے کو ہی جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر سال رواں کے پہلے چھ ماہ کے اعدادوشمار جاری کرنے والے ہيں۔

 سياسی پناہ کے ليے جرمنی آنے والوں کی تعداد ميں گزشتہ برس اس وقت نماياں اضافہ ديکھنے ميں آيا تھا، جب جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے بلقان ممالک سے گزرنے والے روٹ پر پھنسے ہوئے شامی پناہ گزينوں کو مغربی يورپ ميں خوش آمديد کہنے کا عنديہ ديا تھا۔

اگرچہ تب ان کے اس بيان کو انسانی حقوق سے منسلک تنظيموں نے کافی سراہا تھا تاہم اس سبب ان کی اپنی مخلوط حکومت ميں کافی مسائل پيدا ہوئے۔ بعد ازاں مہاجرت کے موضوع پر اختلافات کے باعث ہی جرمنی کے ہنگری سميت ديگر چند مشرقی يورپی رياستوں کے ساتھ باہمی تعلقات بھی منفی انداز ميں متاثر ہوئے۔

ملتے جلتے مندرجات