1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی ميں تارکين وطن مخالف جماعت کی حمايت ميں اضافہ

مہاجرين کے بحران سے نمٹنے کے معاملے ميں جرمنی کی مخلوط حکومت ميں شامل اتحادی جماعتوں کے مابين اختلافات کے تناظر ميں تارکين وطن کی مخالف AfD نامی سياسی جماعت کی مقبوليت ميں اضافہ ہو رہا ہے۔

نيوز ايجنسی روئٹرز کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق رائے عامہ کے تازہ جائزوں ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ جرمنی ميں داخلی سطح پر تارکين وطن کی مخالفAlternative for Germany (AfD) نامی سياسی جماعت کی عوامی سطح پر حمايت بڑھی ہے۔ جرمن اخبار بلڈ ام زونٹاگ ميں اتوار کو جاری کردہ جائزے کے نتائج کے مطابق پارٹی کی حمايت کی شرح اب نو فيصد ہے، جو گزشتہ ہفتے آٹھ فيصد تھی۔

مشرقی جرمنی ميں AfD کی مقبوليت کی شرح اور بھی زيادہ چودہ فيصد رہی جبکہ اس علاقے کے مردوں ميں يہ شرح اٹھارہ فيصد ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ پچھلے دنوں مشرقی جرمنی ميں مہاجرين کے خلاف پرتشدد مظاہرے منعقد ہوتے رہے ہيں۔

’آلٹرنيٹيو فار ڈوئچ لانڈ‘ کی جانب سے ہجرت کے معاملے پر سخت گير موقف سامنے آيا ہے اور يہ جماعت جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کی پناہ گزينوں کے ليے ’کھلے دل، کھلے دروازے‘ کی پاليسی کے نتيجے ميں رونما ہونے والے مسائل کی صورتحال سے بھی مستفيد ہو رہی ہے۔

سياسی تجزيہ نگار اولرچ فان آليمن نے بلڈ ام زونٹاگ سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’AfD جرمنی کی ايسی واحد سياسی جماعت ہے، جو بغير کسی شرم و حيا کے آبادی کے ايک حصے ميں غير ملکيوں کے خلاف تعصب کو ہوا دے رہی ہے۔‘‘

دوسری جانب AfD پناہ گزينوں کے حوالے سے برلن حکومت کی پاليسی پر کڑی تنقيد کرتی آئی ہے اور پاليسی کا ’افراتفری‘ سے موازنہ کيا ہے۔ اس جماعت کے نائب سربراہ نے ہنگری ميں پھنسے ہوئے پناہ گزينوں کو جرمنی آنے کی اجازت دينے پر چانسلر ميرکل پر ’انسانوں کی اسمگلنگ‘ کا الزام عائد کيا ہے۔ AfD کے قريب پانچ ہزار حاميوں نے گزشتہ روز دارالحکومت ميں ايک مظاہرہ بھی کيا، جس کا عنوان ’سياسی پناہ کی حد ہوتی ہے، ميرکل کے ليے ريڈ کارڈ‘ تھا۔

AfD کے قريب پانچ ہزار حاميوں نے ہفتے کے روز برلن ميں ايک مظاہرہ کيا

AfD کے قريب پانچ ہزار حاميوں نے ہفتے کے روز برلن ميں ايک مظاہرہ کيا

جرمنی کی مخلوط حکومت ميں شامل ايک اتحادی جماعت سوشل ڈيموکريٹس (SPD) کے نائب چيئرمين رالف سٹيگنر نے اس بارے ميں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مخلوط حکومت ميں شامل جماعتيں اپنے اختلافات دور کرنے ميں ناکام رہيں اور اس بحران سے نمٹنے کے ليے موبوط اقدامات نہ کيے، تو مستقبل ميں AfD کی مقبوليت ميں مزيد اضافہ ممکن ہے۔

اتوار کو جاری کردہ جائزے کے ليے انتيس اکتوبر اور چار نومبر کے درميان قريب ڈھائی ہزار افراد سے سوالات کيے گئے تھے۔ نتائج کے مطابق جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کی جماعت کرسچن ڈيموکريٹک يونين کی مقبوليت چھتيس فيصد پر برقرار رہی جبکہ اتحادی جماعت سوشل ڈيموکريٹس کی مقبوليت ميں ايک فيصد کا اضافہ ريکارڈ کيا گيا اور وہ چھبيس فيصد ہو گئی۔