1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی ميں اسلام مخالف تنظيم کے بانی عدالت ميں طلب

جرمنی ميں اسلام مخالف تحريک پيگيڈا کے بانی لٹس باخ مان کو مہاجرين کے حوالے سے نفرت آميز بيان دينے پر عدالت ميں طلب کر ليا گيا ہے۔ انہوں نے اپنے ايک بيان ميں پناہ گزينوں کا موازنہ ’بھيڑ بکريوں اور کوڑے کرکٹ ‘ سے کيا تھا۔

جرمن شہر ڈريسڈن کی ايک عدالت نے لٹس باخ مان کو اپريل میں کسی تاريخ پر طلب کيا ہے۔ پھر مئی ميں بھی ان کی دو پيشياں ہيں۔ تينتاليس سالہ باخ مان پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس اکتوبر ميں اپنی تحريک پيگيڈا کے فيس بک پيج پر متعدد تحريروں ميں نفرت آميز مواد لکھا، جسے متعدد مرتبہ شيئر بھی کيا گيا۔ عدالت کے مطابق باخ مان کے بيانات اور الفاظ نے عوامی سطح پر نظم وضبط خراب کيا اور وہ مہاجرين کی توہين کے مرتکب ہوئے ہیں۔

پيگيڈا کا آغاز اکتوبر سن 2014 ميں ايک اسلام اور غير ملکی مخالف فيس بک گروپ سے ہوا تھا۔ ابتداء ميں اس گروپ کے حاميوں کی تعداد اتنی نہ تھی اور ڈريسڈن ميں منعقد ہونے والے مظاہروں ميں صرف چند سو شرکاء حصہ ليا کرتے تھے۔ باخ مان کی جانب سے زيادہ نسل پرست الفاظ پر پيگيڈا کی مقبوليت متاثر ہوئی اور چند ايسی تصاوير، جن ميں وہ جرمنی کے سابق آمر آڈولف ہٹلر کی طرز کی موچھيں اور بال بنا کر منظر عام پر آئے، کافی متنازعہ ثابت ہوئيں۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ جيسے جيسے جرمنی ميں گزشتہ برس سياسی پناہ کے ليے پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد بڑھتی گئی، اس گروپ کی عوامی سطح پر مقبوليت ميں اضافہ ہوتا گيا اور چند جلسوں ميں پچيس ہزار تک شرکاء نے حصہ ليا۔

ان دنوں جرمنی ميں دائيں بازو کی جماعت ’آلٹرنيٹو فار ڈوئچ لانڈ‘ (AfD) کی مقبوليت ميں کافی اضافہ ريکارڈ کيا جا رہا ہے۔ پچھلے ہفتے جرمنی کی تين رياستوں ميں انتخابات ہوئے، جن ميں اس جماعت نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کيا۔ اس اليکشن کو جرمن چانسلر انگيلا ميرکل مہاجرين دوست پاليسيوں کے امتحان کے طور پر ديکھا جا رہا تھا۔

ملتے جلتے مندرجات