1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں میں اضافہ

جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں، دھمکی آمیز خطوط اور اسکارف پہننے والی خواتین پر حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جرمن اخبار ’نوئے اوسنا بروکر سائٹُنگ‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ماضی کے مقابلے میں جرمنی میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف اپریل سے جون کے دوران مذہب کے بنیاد پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں سولہ مسلمان زخمی ہوئے۔ اس حوالے سے بائیں بازو کی جرمنی کی سیاسی جماعت ’دی لِنکے‘ نے وفاقی حکومت سے سوال پوچھا تھا، جس کے بعد یہ اعداد و شمار سب کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ تقریباﹰ سبھی حملوں میں دائیں بازو کے جرمن انتہاپسند ملوث تھے اور صرف ایک ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر دوسری سہ ماہی کے دوران جرمن پولیس نے مسلم اداروں اور مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے 192 واقعات کا اندراج کیا۔ رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے ایسے واقعات کی تعداد 200 کے قریب تھی۔ ان واقعات میں مساجد یا مسلمانوں کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے خطوط، نفرت انگیز تقریریں اور اسکارف پہننے والی مسلمان خواتین پر حملے شامل ہیں۔ اسی طرح کئی واقعات میں رات کے اندھیرے میں مسلمانوں کے گھروں کی دیواروں پر نفرت انگیز پیغامات بھی لکھے گئے۔

يورپ ميں مسلمانوں کے خلاف حملوں سے متعلق اعداد و شمار کا فقدان

جرمنی کے داخلی امور کی ماہر اور دی لِنکے سیاسی جماعت سے وابستہ سیاستدان اولا جیلپکے کا اس حوالے سے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’مسلمانوں کے خلاف حملے زیادہ سفاکانہ‘‘ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ میں اس حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف حملوں میں ملوث دائیں بازو کے انتہاپسند فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ پولیس ان کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو۔ بتایا گیا ہے کہ جرمن اداروں نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے حملوں کا ریکارڈ رواں برس کے آغاز سے مرتب کرنا شروع کیا ہے اور اس حوالے سے موازنے کے لیے گزشتہ برس کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

DW.COM