1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ

جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ ایمن مازییک کا کہنا ہے کے فرانس کے دارلحکومت میں اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ہوا ہے۔

جرمنی کے کثیر الاشاعتی روزنامے ’ٹاگس سائٹُنگ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مازییک کا مزید کہنا تھا کہ مسلمانوں سے امتیازی سلوک ’’نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس رجحان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

یورپ کی اسلامائزیشن کے خلاف جرمنی میں شروع ہونے والی تحریک پیگیڈا اور انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت ’آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لانڈ‘ (اے ایف ڈی) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کی شکایت تھی کہ جرمن معاشرے میں مثبت جذبات مانند پڑتے جار رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیگیڈا جیسی اسلام مخالف تحریکیں کھلے عام نفرت پھیلاتی ہیں۔ مازییک کے مطابق، ’’سرعام نسل پرستانہ بیانات دینا اب جرمن معاشرے میں قابل قبول بات بنتی جا رہی ہے۔ پہلے ہمارا معاشرہ ایسی باتوں کو سختی سے رد کر دیتا تھا۔‘‘

جرمنی میں سامیت مخالف بیانات دینا قابل تعزیر جرم ہے۔ مازییک کا کہنا تھا کی سامی دشمنی کو روزمرہ کی گفتگو سے ختم کرنے کے لیے بہت کوششیں کی گئی ہیں اور ایسی کوششوں کو مسلسل جاری بھی رکھنا چاہیے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اسلاموفوبیا‘ یا اسلام سے خوف کے خلاف بھی ایسے ہی اقدامات کرنے چاہییں۔

جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ نے یہ بھی کہا، ’’ وہ اس بارے میں جرمن حکام سے بات چیت کر رہے ہیں کہ اسلاموفوبیا پر مبنی جرائم کو الگ سے درج کیا جائے۔‘‘

انتہا پسندی کے خاتمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مازییک نے کہا کہ اس ضمن میں مسجدوں، اسکولوں، خاندانوں اور کھیلوں کی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمن مسلمانوں کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جرمنی کی مسجدوں میں ایسے اماموں کو تعینات کیا جائے جو جرمن معاشرے ہی میں پلے بڑھے ہوں۔

Rechte Proteste gegen das Flüchtlingslager in Freital

پیگیڈا ہر ہفتے یورپ کے اسلامیائے جانے اور تارکین وطن کو پناہ دینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کرتی ہے۔

ترک نژاد جرمن شہری چِیم اُزدیمیر جرمنی کی سیاسی جماعت گرین پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمنی میں بہت ہی کم ایسے مذہبی لوگ ہیں جو نوجوانوں سے مکالمہ کرتے ہیں۔

اُزدیمیر کا کہنا تھا، ’’زیادہ تر امام دوسرے ملکوں سے مثلا، مصر، ترکی اور دیگر عرب ممالک سے آتے ہیں، جو اچھے طریقے سے جرمن زبان بھی نہیں بول سکتے ہیں۔ پھر وہ مذہب کی تشریح بھی اپنے پس منظر کے مطابق کرتے ہیں۔‘‘

DW.COM