1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: مساجد کا انسداد دہشت گردی مہم میں کردار

جرمن شہر کولون میں ابھی حال ہی میں دہشت گردی کے شبے میں ایک سولہ شامی مہاجر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری ایک مسلم تنظیم کی تعاون سے ممکن ہو سکی ہے۔ پولیس کے مطابق اس نوجوان کے اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ روابط تھے۔

ڈی ڈبیلو نے اس سلسلے میں جرائم کی تفتیش کے جرمن ادارے سے منسلک مروان ابو طام سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے جاری مہم میں مسلم تنظیموں کا کیا کردار ہے؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تقریباً تمام ہی جرمن صوبوں میں پولیس مسلم تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ پولیس افسران کی ان تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور اس وجہ سے گزشتہ برسوں کے دوران اعتماد کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فاصلے کم ہو گئے ہیں اور بات چیت میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہو گئی ہیں۔ اسی بناء پر ایسی معلومات سامنے آ جاتی ہیں۔

ڈی ڈبلیو کیا یہ اپنی نوعیت کا ایک ہی واقعہ ہے یا پھر اس سے پہلے بھی مسلم تنظیموں کی وجہ سے کسی مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا جا چکا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس طرح کی معلومات کے تبادلوں کے بہت کم ہی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس پر مروان ابو طام نے کہا اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ شدت پسندی پر مائل افراد ان تنظیموں سے دور ہی رہتے ہیں، جو پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں، ’’ایک طرف تو جرمنی میں اسلام پسند حلقے کا ایک ایسا ڈھانچہ ہے، جو قانون پر عمل کرتا ہے جبکہ سلفی نظریات کے حامل افراد بھی بڑی تعداد موجود ہیں اور سلفی حلقے پولیس پر کسی طرح بھی بھروسہ نہیں کرتے یعنی دونوں کے مابین اعتماد کا فقدان ہے۔

کیا یہ مسلم تنظیمیں مہاجروں کے مراکز میں بھی کام کر رہی ہیں؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین مساجد کا انتخاب خود ہی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلم تنظیموں اور مبلغین پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر انتہا پسندی کی طرف لے جایا جاتا ہے۔