جرمنی، مخلوط حکومت سازی کا راستہ ہموار ہو گیا | حالات حاضرہ | DW | 12.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی، مخلوط حکومت سازی کا راستہ ہموار ہو گیا

چانسلر میرکل کے قدامت پسند سیاسی اتحاد اور نو منتخب پارلیمان میں دوسری سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے مابین نئی مخلوط حکومت سازی کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا۔ تین سوالوں کے مختصر جوابات۔

سوال: طویل ابتدائی مذاکراتی عمل کے بعد آخر کار جرمن چانسلر میرکل کے قدامت پسند سیاسی اتحاد اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے اتفاق کر ہی لیا کہ وہ حکومت سازی کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع کریں گے؟ تازہ اطلاعات کیا ہیں؟

جواب: یہ ابتدائی مذاکراتی مرحلہ پورا ایک ہفتہ چلا، بلکہ رات بھر جاری رہنے والی اس بات چیت کے بعد تقریبا جمعے کی دوپہر یہ فیصلہ سامنے آیا کہ انگیلا میرکل کا سیاسی اتحاد اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی مل کر حکومت سازی کے لیے باقاعدہ مذاکرات کریں گے۔ سوشل ڈیموکریٹ رہنما مارٹن شلس نے کہا ہے کہ میرکل کے سیاسی اتحاد کے ساتھ ابتدائی مکالمت کے نتائج بہت مثبت رہے اور اب آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

یہ ایک انتہائی نازک مرحلہ تھا کیونکہ اگر یہ مذاکرات بھی ناکام ہو جاتے تو جرمنی میں نئے الیکشن تقریبا لازمی ہو جاتے۔ اس سے قبل میرکل نے گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بھی حکومت سازی کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہو گئی تھی۔ اب کہا جا سکتا ہے کہ جرمنی میں سیاسی بحران ختم ہوتا نظر آنے لگا ہے۔

جرمنی میں 2018ء کا استقبال نئی وفاقی حکومت کے بغیر ہی

مارٹن شلس میرکل سے مذاکرات پر آمادہ

میرکل کی مخلوط حکومت سازی کے مذاکراتی عمل کو دھچکا

سوال: اس ابتدائی مذاکراتی مرحلے میں ایک پالیسی ڈھانچے پر اتفاق کی خبریں بھی ہیں۔ اس میں کیا کیا شامل ہے؟

جواب: کئی ملکی مسائل کے علاوہ مہاجرین کا بحران بھی اس مذاکراتی عمل میں ایک اہم ایجنڈا تھا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اس پالیسی بلیو پرنٹ کے مطابق جرمنی میں مہاجرین کی آمد کی سالانہ بالائی حد دو لاکھ رکھی جائے گی۔ اسی طرح جرمنی میں موجود مہاجرین کے منقسم خاندانوں کا ملاپ بھی ایک اہم معاملہ تھا، جس پر اتفاق کیا گیا ہے کہ سخت ضوابط کو نرم بنایا جائے گا۔

فریقین نے یہ اتفاق بھی کیا ہے کہ شہریوں کو ٹیکس ریلیف دیا جائے گا۔ اتفاق رائے کے مطابق اگر اس طرح نئی وسیع تر مخلوط حکومت قائم ہوتی ہے، تو ایس پی ڈی کی خواہش ہے کہ حکومت سن دو ہزار اکیس تک جرمن عوام کو ٹیکس میں دس بلین یورو تک ریلیف دے۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ، تعلیم اور ریسرچ کے شعبوں میں بھی اضافی سرکاری رقوم مختص کی جائیں گی۔ اہم بات یہ ہے کہ اس پالیسی موقف میں آئندہ کچھ ترامیم کرنا بہرحال ممکن ہو گا۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ آئندہ مخلوط حکومت یمن میں جاری جنگ کے فریقین کو کوئی اسلحہ فروخت نہیں کرے گی۔ اس میں بہت بڑا فریق ظاہر ہے سعودی عرب ہی ہے، جو جرمن ہتھیاروں کا بڑا خریدار ہے۔ ساتھ ہی یہ اتفاق رائے بھی ہوا ہے کہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی خاطر جاری کوششوں کے حوالے سے جرمن پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی۔

سوال: انگیلا میرکل ایک مرتبہ پھر چانسلر بنیں گی، تو کیا ایک مرتبہ پھر وسیع تر مخلوط حکومت کا حصہ بننے پر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی عوامی مقبولیت پر بھی کوئی فرق پڑے گا؟ کیونکہ شروع میں تو اس پارٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کسی نئی مخلوط حکومت میں جونیئر پارٹنر نہیں بنے گی۔

جواب:یہ تاثر تھا کہ سوشل ڈیموکریٹ لیڈر مارٹن شلس قدامت پسند کرسچین جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی نہیں کریں گے۔ یہ بات شلس نے ستمبر میں الیکشن کے نتائج آنے کے بعد کھل کر کہہ بھی دی تھی۔ لیکن جرمنی کے موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے پارٹی ممبران نے شلس کو راضی کر لیا کہ وہ ملکی مفاد کی خاطر ایسا کریں۔

جرمنی میں الیکشن گزشتہ برس چوبیس ستمبر کو ہوئے تھے اور اب قریب ساڑھے تین ماہ ہو چکے ہیں کہ نئی حکومت تشکیل نہیں دی جا سکی۔ جدید جرمنی کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے، جو ملکی اور یورپی سطح پر پریشانی کی بات بھی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل ڈیموکریٹس نے ایک مرتبہ پھر صرف ملکی مفاد کی خاطر مخلوط حکومت کا حصہ بننے کا عندیہ دیا ہے لیکن اس سے بہرحال اس پارٹی کے بہت سے ووٹرز خوش نہیں بھی ہوں گے۔ عوامی جائزوں کے مطابق ایس پی ڈی کے زیادہ تر حامی نئے الیکشن کرانے کے حق میں تھے لیکن جرمن صدر شٹائن مائر ایسے کسی حل کے خلاف تھے۔

اس صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں اس پارٹی کی کارکردگی کچھ متاثر ہو سکتی ہے، جس کا فائدہ شاید اسلام اور مہاجرین کی مخالف پارٹی اے ایف ڈی کو ہو سکتا ہے، جو پہلی مرتبہ وفاقی جرمن پارلیمان میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوا بھی، تو یہ آج کی نہیں بلکہ آئندہ برسوں کی بات ہو گی۔

DW.COM