1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: لاوارث مہاجر بچوں کی پرورش ایک نازک ذمے داری

جرمن شہر وؤرزبرگ میں جس نو عمر افغان مہاجر نے ایک ٹرین پر حملہ کر کے لوگوں کو زخمی کر دیا تھا، اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جرمن معاشرے میں اچھی طرح انضمام کر چکا تھا۔

جرمن شہر وؤرزبرگ میں ٹرین پر ہوئے حملے کے بعد ایک ایسی بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایسے مہاجرین جو جرمن معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں، کیا وہ بھی انتہا پسندی کی طرف راغب ہو سکتے ہیں؟

DW.COM

جرمن پولیس کے مطابق منگل کو ہوئے اس حملے میں ایک نو عمر افغان مہاجر ملوث تھا۔ یہ سترہ سالہ لڑکا ان چھیانوے ہزار لاوارث مہاجر بچوں میں شامل تھا، جو گزشتہ برس طویل سفر کے بعد یورپ پہنچے تھے۔

اس افغان لڑکے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جرمن معاشرے میں اچھی طرح ضم ہو چکا تھا جب کہ اس کی پرورش ایک جرمن گھرانا کر رہا تھا۔

تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ وؤرزبرگ حملے کے باعث جرمن گھرانے ایسے مہاجر بچوں کی پرورش سے منہ موڑ لیں۔

پروٹیسٹنٹ سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن Diakonie سے وابستہ سماجی کارکن ہیلگا سیمنز ویبرنگ کا کہنا ہے کہ وؤرزبرگ کا واقعہ ابھی تک تازہ ہے لیکن معاشرتی سطح پر اس کے کوئی زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔

انضمام کے لیے رضامندی

بون شہر میں یوتھ ویلفیئر دفتر کے ڈائریکٹر اؤڈو اشٹائن کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں لاوارث مہاجر بچوں کی پرورش کے لیے لوگوں کی بہت زیادہ درخواستیں موصول ہو رہی ہیں، جو ضرورت سے زیادہ ہیں۔ دیگر کئی سماجی کارکنوں نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

برلن میں لاوارث بچوں کے لیے منہ بولے والدین تلاش کرنے میں شہری یوتھ آفس کی مدد کرنے والے ایک ادارے کے ڈائریکٹر پیٹر ہینسین کا بھی کہنا ہے کہ وؤرزبرگ حملے کے بعد بھی ان کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور لوگ ایسے بچوں کی پرورش کے لیے تیار ہیں۔

Helga Siemens-Weibring

سماجی کارکن ہیلگا سیمنز ویبرنگ کا کہنا ہے کہ وؤرزبرگ کا واقعہ ابھی تک تازہ ہے لیکن معاشرتی سطح پر اس کے کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں

ہینسین نے کہا کہ وؤرزبرگ حملے سے قبل ہی ایسے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہو چکی تھی، جو لاوارث بچوں کو گود لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ’’کولون میں (سال نو کے موقع پر) خواتین پر جنسی حملوں کے بعد یہ تعداد کم ہو گئی تھی۔‘‘

ہینسین کا کہنا ہے کہ یہ ذمے داری ن پولیس اور جرمنی کی داخلی خفیہ ایجنسی BfV پر عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ پتا چلائیں کہ کیا مہاجر بچوں میں انتہا پسندی کے رحجانات پائے جاتے ہیں یا نہیں، ’’ہم اگر کسی بچے میں کوئی ایسے آثار دیکھتے ہیں تو ہم فوری طور پر متعلقہ اداروں کو رپورٹ کر دیتے ہیں۔‘‘

دو بچوں کی ماں ہیلگا سیمنز ویبرنگ کا کہنا ہے کہ یہ امر ان کے لیے بھی مشکل ہے کہ وہ اپنے بچون کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ لے پالک بچوں میں پچاس تا ستّر فیصد ایسے ہیں، جنہوں نے جنگ وجدل کا تجربہ کیا ہے۔ یہ بچے کسی نفسیاتی الجھن کا اظہار کسی ایک طریقے سے ہی نہیں کرتے ہیں۔

گود لینے کے سخت قوانین

جرمنی میں منہ بولے والدین کے انتخاب کا طریقہ کار انتہائی سخت ہے۔ جرمنی میں لاوارث بچوں کے اندراج کے بعد سب سے پہلے مقامی یوتھ ویلفیئر آفس کے ماہرین ان بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور ان کے رحجانات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ بچوں کے میلانات کا اندازہ لگانے کے بعد ان کی شخصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے لیے ممکنہ منہ بولے والدین کی تلاش کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔

اشٹائن نے بتایا، ’’منہ بولے (رضاعی) والدین میں دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں سعی وخطا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے افراد کی مالی پوزیشن مستحکم ہونا چاہیے اور ان کے گھروں میں بچوں کے رہنے کا مناسب انتظام بھی ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ایسے جوڑوں کو ترجیح دی جاتی ہے، جن کا ازدواجی تعلق مستحکم ہوتا ہے۔

بون میں یوتھ دفتر سے منسلک اشٹائن نے مزید بتایا کہ ایسے جوڑے جنہیں لاوارث بچوں کی پرورش کی ذمے داری سونپی جاتی ہے، انہیں ان کا دفتر مکمل تعاون بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منہ بولے والدین کی تربیت کی جاتی ہے اور کسی ناخوش گوار صورت حال میں انہیں فوری مشاورت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اشٹائن کے مطابق مہاجر بچوں کی پرورش ایک مشکل کام ہوتا ہے۔