1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی: لازمی فوجی سروس کا آخری دستہ

جرمنی کے لازمی ملٹری سروس کی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کا آخری دستہ پیر کے روز ملٹری بیرکس پہنچ گیا۔ اس یورپی ملک میں فوج کی لازمی سروس کا سلسلہ 50 سال سے بھی زیادہ کے عرصے سے چلا آ رہا تھا۔

default

جرمن فوجی ٹریننگ کے دوران

سن 2010 میں وفاقی پارلیمان نے نوجوانوں کے لئے لازمی ملٹری سروس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور اب جرمن نوجوانوں کا آخری گروپ لازمی فوجی سروس کی تربیت حاصل کر رہا ہے، جس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ملٹری ٹریننگ کے اس آخری پروگرام میں بارہ سو جرمن نوجوان چھ ماہ تک فوجی تربیت حاصل کریں گے۔

دوسری جانب جرمنی میں کمیونٹی سروس بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیونٹی سروس سے منسلک ہزاروں نوجوان خدمت خلق کے مختلف اداروں میں کام کر تے آئے ہیں۔ خاص طور سے ’اولڈ پیپلز ہاؤس‘ یا معمر اور ضعیف افراد کی قیام گاہوں، نوجوانوں کے مراکز، معذور لوگوں کی دیکھ بھال پر مامور اداروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں۔

Deutsche Soldaten in Afghanistan

جرمن فوجیوں کا ایک گروپ

لازمی فوجی سروس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی سروس کے خاتمے کے حکومتی فیصلے پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ کمیونٹی سروس کا کام کرنے والوں پر جرمن معاشرے کے بہت سے ایسے باشندوں کی انحصار ہے، جو روز مرہ کے کام تنہا انجام نہیں دے سکتے، انہیں کسی کی مدد درکار ہوتی ہے۔

’ڈینس بوُہمکے‘ جب سے پیدا ہوا ہے اسے تشنجی فالج کی شکایت ہے۔ اپنے روز مرہ کے کاموں کے لئے اُسے کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

برلن میں قائم جسمانی طور پر محتاج افراد کے ایک مرکز میں کمیونٹی ورکر کی حیثیت سے کام کرنے والا ’الکزنڈراسٹراٹمن‘ کہتا ہے ’ اگر ڈینس کو ہاتھ مُنہ دھونے یا کسی اور کام میں بہت دیر لگ رہی ہوتی ہے تو میں اُس کی مدد کرتا ہوں، اُس کا ہاتھ پکڑ کر صحیح سمت تک پہنچانے میں۔ کمیونٹی سروس کے خاتمے کے بعد اس مرکز میں رضا کارانہ خدمات انجام نہیں دی جا سکیں گی۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ضرورت مندوں کی مدد کریں تاہم کمیونٹی سروس بند ہونے کے بعد کوالٹی اور کوانٹٹی کی سروس مہیا کرنا بہت مشکل ہو جائے گا‘۔

Eurokorps formiert sich

جرمن فوجی جرمی فوجی پرچم کے ساتھ

برلن میں قائم اس مرکز کے سربراہ ’فریڈ گبہارڈ‘ کا اس بارے میں کہنا ہے’ ہمارے اس سینٹر میں ایسے معذور افراد بھی ہیں جنہیں اطمنان سے اپنا لنچ کرنے میں نصف گھنٹا لگ جاتا ہے۔ کمیونٹی ورکرز ایسے معذوروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ آرام سے اپنا کھانا ختم کر سکیں اور اس طرح ان کو ضروری غذائیت مل سکے‘۔

اس مرکز کےاخراجات پبلک فنڈ سے پورے ہوتے ہیں۔ ’فریڈ گبہارڈ‘ کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس مرکز میں موجود تمام 320 معذوروں کو اُن کی ضروریات پورا کرنے کے لئے معاونین فراہم کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔ اب تک کمیونٹی ورکرز اس مرکز کے اضافی عملے کے طور پر بہت بڑا سہارا تھے اور یہ نہایت معمولی اجرت کے عوض کام انجام دیا کرتے تھے۔ ان کی کمی ہر وقت اور ہر طرح کے کاموں میں محسوس ہوگی۔

جرمنی میں آئندہ سے کمیونٹی سروس کی جگہ رضاکاروں کو ان کاموں پر مامور کیا جائے گا جو بہت کم اجرت لیا کریں گے۔ یہ اور بات کہ اس کام کے لئے کتنے نوجوان جوش و ولولہ رکھتے ہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس