1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی فی الحال صرف ’مجرم ‘ افغان مہاجرین کو ملک بدر کرے گا

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ جرمن حکومت اب صرف ایسے افغان مہاجرین کو ملک بدر کرے گی جنہیں وہ مجرم یا جرمنی کے لیے خطرہ تصور کرے گی۔ میرکل کا یہ بیان دو روز قبل کابل میں ہونے والے  بم دھماکے کے بعد سامنے آیا ہے۔

Festakt zum 50. Todestag von Konrad Adenauer (picture alliance/dpa/M.Gambarini)

میرکل کی حکومت نے گزشتہ برس دسمبر سے بڑے پیمانے پر افغان تارکین وطن کی ملک بدری کا آغاز کیا تھا

میرکل کے مطابق اب واپس افغانستان بھیجے جانے والے تارکین وطن سے متعلق فیصلہ ہر کیس کی نوعیت کے لحاظ سے کیا جائے گا۔ جرمن حکومت کسی جرم میں ملوث پائے گئے اور ایسے افغان تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرے گی جو ملک کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔

علاوہ ازیں اُن پناہ گزینوں کو بھی جرمنی بدر کیا جائے گا جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ البتہ وہ افغان مہاجرین جو اپنی مرضی سے افغانستان واپس جانا چاہیں گے، انہیں روکا نہیں جائے گا۔

جرمن چانسلر نے گزشتہ روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ جولائی تک اس حوالے سے اپنی تازہ ترین جائزاتی رپورٹ جمع کرا دیں گے۔

میرکل کی حکومت نے گزشتہ برس دسمبر سے بڑے پیمانے پر افغان تارکین وطن کی ملک بدری کا آغاز کیا تھا جس پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان مہاجرین کو ایک خطرناک ملک واپس بھیجا جا رہا ہے۔

 بدھ کے روز کابل میں ایک ہولناک بم دھماکے کے بعد اس بحث نے زور پکڑ لیا تھا کہ آیا افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جانا چاہیے۔ جرمن حکومت نے اسی روز ملک بدر کیے جانے والے افغان پناہ گزینوں کے ایک گروپ کو کابل لے جانے والی پرواز کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔

کابل میں ہونے والے اس بم حملے میں اسّی افراد ہلاک جبکہ  400  کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے میں جرمن سفارت خانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا تھا اور عملے کا ایک گارڈ ہلاک جبکہ دو دیگر ملازمین زخمی ہوئے تھے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic