1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: غیرملکیوں کی نوکری کے لیے درخواستیں مسترد کیوں؟

جرمنی میں گزشتہ برس غیرملکیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی 27 ہزار درخواستوں کو رد کر دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ ان ملازمتوں کے لیے مقامی جرمن باشندے موجود تھے، یا یہ نوکریاں ’انتہائی کم اجرت‘ والی تھیں۔

جرمن اخبار رائنشے پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمن پارلیمان میں گرین پارٹی کی جانب سے ایک سوال پر وفاقی حکومت نے بتایا کہ گزشتہ برس ملک میں مقیم غیرملکیوں کی جانب سے ملازمت کی اجازت سے متعلق 27 ہزار درخواستیں جمع کرائی گئیں، جنہیں وفاقی ایجنسی برائے روزگار کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے زیادہ تر درخواستیں مہاجرین کی جانب سے جمع کرائی گئیں، جب کہ کچھ جرمنی میں رہائش پذیر غیرملکی بھی تھے۔ بتایا گیا ہےکہ دو برس قبل کے مقابلے میں درخواستیں مسترد کرنے کا یہ تناسب دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔

Deutschland Refugees Company for Crafts and Design (picture-alliance/dpa/F. Zahn)

غیرملکیوں کی جانب سے ملازمت کی درخواستیں رد کی گئیں

جرمنی میں کسی ملازمت کے حصول کے لیے محکمہء ملازمت کی جانب سے ایک اجازت نامہ درکار ہوتا ہے، تاہم یہ ادارہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کسی نوکری کے لیے کوئی ملکی شہری دستیاب ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اس ادارے کی نگاہ اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ کسی کام کے لیے اجرت طے شدہ معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ اس ضابطے کو ’ترجیحی‘ ضابطہ قرار دیا جاتا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں جرمنی کے 156 میں سے 133 اضلاع میں مہاجرین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے اس ضابطے کو تین برسوں کے لیے معطل کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس طرح اب ملازمت کے لیے دائر کی جانے والی درخواستوں میں سے صرف چھ فیصد کو رد کیا گیا ہے۔ تاہم گرین پارٹی کے سیاست دان فولکر بیک کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بیک کے مطابق اس تناظر میں بیوروکریسی کی ترجیحات کو تمام ممکنہ حد تک کم کیا جانا چاہیے۔

یہ بات اہم ہے کہ سن 2015ء میں جرمنی میں قریب ایک ملین مہاجرین داخل ہوئے تھے۔ اس تناظر میں ان مہاجرین کے انضمام اور ان کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کے معاملے پر جرمن حکومت متعدد قواعد متعارف کروا چکی ہے۔