1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی، عدالتی کارروائی کے دوران نقاب پر پابندی کا مطالبہ

جرمنی کے جنوبی صوبے باویریا کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والی عدالتی کارروائیوں میں کسی خاتون کے چہرے کو مکمل طور پر چھپانے کی ممانعت ہونا چاہیے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے باویریا کی صوبائی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران کسی کو اپنا چہرہ پوشیدہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ اس سے عدالتی کارروائی کے متاثر ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

جرمن سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کے سیاستدان مارسل ہوبر کے مطابق اس تجویز کا مقصد دراصل ملک میں برقعہ پر پابندی عائد کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اطلاق صرف عدالتوں میں کرنے کی تجویز زیر بحث ہے۔

باویریا کے چانسلری آفس سے جارہ کردہ بیان کے مطابق، ’’یہ کوئی مذہبی یا ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ ہمارے لیے اہم ہے کہ عدالتی کارروائی کو قانونی دائرہ کار میں رکھا جا سکے۔‘‘

اس بیان کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران اہم ہے کہ گواہی دینے والے شخص کے چہرے کے تاثرات کا مکمل اور جامع طریقے سے جائزہ لیا جا سکے۔

حال ہی میں میونخ میں ایک خاتون نے عدالتی کارروائی کے دوران گواہی دیتے ہوئے نقاب اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔ تب جج نے اس خاتون کو اجازت دے دی تھی کہ وہ نقاب کے ساتھ ہی اپنا بیان قلمبند کرا دے۔

Schweiz Burkaträgerin in Zürich

جرمنی میں نقاب پر پابندی کی بات صرف عدالتوں میں کی جا رہی ہے

اس عدالتی کارروائی کے دوران اس خاتون نے اپنا چہرہ اپنی حریف پارٹی کو دکھایا تھا لیکن کوئی دوسرا اس کے چہرے کو نہیں دیکھ سکا تھا۔

جرمنی میں عدالتی کارروائی کے دوران شاہدین کے لیے کوئی ’ڈریس کوڈ‘ نہیں ہے۔ تاہم جج کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اس حوالے سے تقاضا کر سکتا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات