1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی طویل المدتی بنیادوں پر مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ممکن

جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران جرمنی میں سالانہ ’نیٹ مائیگریشن‘ متوقع طور پر دو لاکھ رہے گی۔ بتایا گیا ہے کہ اس حوالے مزید تفصیلات اتوار کے دن جاری کردہ ایک سرکاری رپورٹ میں شائع کی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے روزنامہ ولٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران جرمنی میں نیٹ مائیگریشن یا خالص نقل مکانی کرنے والوں کی سالانہ تعداد دو لاکھ رہے گی۔ ولٹ نے وفاقی دفتر برائے شماریات کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی میں طویل المدتی بنیادوں پر مہاجرین کی تعداد میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ یہ اعدادوشمار منگل کے دن عوامی سطح پر بھی جاری کر دیے جائیں گے۔

جرمنی سیاسی پناہ کے ناکام درخواست گزاروں کو جلد واپس بھیجے گا

شناخت چھپانے کی صورت میں مہاجرین کا موبائل بھی ضبط

2017ء جرمنی سے ملک بدریوں کا سال ہو گا، جرمن وزیر

یورپ کو درپیش مہاجرین کے سنگین بحران کی وجہ سے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دنیا کے دیگر خطوں سے لاکھوں افراد یورپ پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران جرمنی میں پناہ حاصل کرنے والے ایسے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس نئی پیش گوئی سے جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات نے مہاجرت کے حالیہ بحران کے تناظر میں ملک کی مجموعی آبادی کا نیا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔

جرمنی میں آبادی میں اضافے سے متعلق یہ اندازہ آخری مرتبہ اپریل سن دو ہزار پندرہ میں لگایا گیا تھا۔ اس وقت کے اعدادوشمار کے مطابق بتایا گیا تھا کہ سن دو ہزار چودہ اور پندرہ کے دوران جرمنی آنے والے مہاجرین کی تعداد ایک ملین کے قریب ہو گی۔

 پرانے اعداداوشمار میں کہا گیا تھا کہ ان دو برسوں کے بعد جرمنی میں خالص نقل مکانی کی شرح میں کمی واقع ہو گی اور سن دو ہزار اکیس کے بعد اس میں ایک مرتبہ پھر اضافہ متوقع ہو گا۔ تاہم مہاجرین کے موجودہ بحران کے باعث برلن حکومت کے یہ اندازے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ سن دو ہزار پندرہ میں ہی، جب مہاجرین کا بحران اپنی شدت پر تھا، تقریبا ایک اعشاریہ ایک ملین افراد جرمنی پہنچے۔

سن دو ہزار سولہ میں جرمنی آنے والے مہاجرین کی تعداد کچھ کم ہوئی لیکن اس سال بھی تقریبا ساڑھے سات لاکھ پناہ کے متلاشی جرمنی آنے میں کامیاب ہوئے۔ اس باعث جرمنی کی مجموعی آبادی میں ریکارڈ اضافہ بھی نوٹ کیا گیا، جو دو ہزار سولہ کے اختتام تک بیاسی اعشاریہ دو ملین تک پہنچ گئی۔ اگر مہاجرین کی ایک بڑی تعداد جرمنی کا رخ نہ کرتی تو جرمن آبادی میں کمی واقع ہونے کے اندازے لگائے گئے تھے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات