1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی، صوبائی اسمبلی میں پہلی مسلمان خاتون اسپیکر کا انتخاب

ترک نژاد خاتون محترم آراس جرمنی کی ریاست باڈن ورٹمبرگ کی اسپیکر منتخب ہوگئی ہیں۔ آراس جرمنی میں کسی بھی صوبائی اسمبلی کی اسپیکر بننے والی پہلی مسلم خاتون ہیں۔

گرین پارٹی کی 50 سالہ سیاست دان، محترم ارس، جرمنی کی ریاست باڈن ورٹمبرگ کی پارلیمنٹ میں اسپکیر منتخب ہو گئی ہیں۔ آراس نے دائیں بازو کی عوامیت پسند اور مہاجرین مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی کے امیدوار کو شکست دی. محترم آراس کو صوبائی اسمبلی کے 96 اراکین کے ووٹ ملے جس کے بعد وہ جرمنی میں صوبائی اسمبلی کی پہلی مسلم خاتون اسپیکر بننے میں کامیاب ہو گئیں۔

اسپیکر منتخب ہونے لے بعد آراس کا کہنا تھا، ’’آج ہم نے تاریخ رقم کر دی ہے، میری کامیابی برداشت، اور کامیاب سماجی انضمام کا پیغام دیتی ہے۔‘‘ آراس نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ صوبائی اسمبلی میں ایک خوش گوار اور منصفانہ ماحول کی مثال قائم کریں گی۔

آراس کا تعلق ترکی سے ہے اور وہ اپنے والدین کے ہمراہ کم عمری ہی میں جرمنی آکر آباد ہوئی تھیں۔ آراس نے اکنامکس کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے بعد میں اپنی ایک ٹیکس فرم بنائی تھی۔ آراس کا سیاسی کیریئر سن 1992 سے شروع ہوا جب انہوں نے گرین پارٹی کے لیے ایک لوکل کونسلر کے انتخابات میں حصہ لیا۔ مقامی سطح پر سیاست شروع کرنے والی یہ ترک نژاد مسلم خاتون بعد ازاں گرین پارٹی کی اہم رہنما کے طور سامنے آئیں۔

ایک جرمن اخبار کے مطابق آراس نے صوبائی اسمبلی کی اسپیکر کے طور پر اپنا پہلا سیشن شروع کیا تو تمام جماعتوں کے اراکین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں تاہم اے ایف ڈی کے اراکین نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ اے ایف ڈی نے حال ہی میں جرمنی کی متعدد ریاستوں میں منعقد ہونے والے مقامی انتخابات میں ریکارڈ کامیابی حاصل کی تھی۔

اے ایف ڈی نے اپنے دستور میں یہ متنازعہ بات بھی شامل کر رکھی ہے کہ اسلام جرمن آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں دائیں بازو کی یہ جماعت جرمنی میں برقعے اور مساجد کے میناروں پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔

DW.COM