1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: صرف خواتین مہاجرین کے لیے پہلا شیلٹر ہاؤس

جرمنی کے شہر میونخ میں پناہ گزینوں کے لیے ایسی پہلی رہائش گاہ بنائی جا رہی ہے جہاں صرف خواتین تارکین وطن کو رکھا جائے گا۔ ہجرت کر کے آنے والی عورتیں آئندہ برس کے آغاز سے یہاں رہائش اختیار کر سکیں گی۔

میونخ شہر میں بنائے گئے تارکین وطن کے اس مرکز میں پناہ کی تلاش میں اکیلے جرمنی پہنچے والی عورتوں اور لڑکیوں کو رہائش فراہم کی جائے گی۔ اس کی علاوہ ایسی مہاجر خواتین بھی یہاں قیام کر سکیں گی جن کے بچے تو ہیں لیکن ان کے ہمراہ کوئی مرد نہیں ہے۔

خواتین پناہ گزینوں کے لیے مختص اس رہائش گاہ کو سماجی تنظیم کونڈروبس، خواتین کی مدد کرنے والا ادارہ، فراؤن ہیلفے اور  پروفیمیلیا کے تعاون سے چلایا جائے گا۔ شیلٹر ہاؤس کی منتظم ایفا گارٹنر کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث پناہ گزینوں کے مراکز میں گنجائش سے زیادہ تارکین وطن کو رکھا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک ایسے شیلٹر ہاؤس کا قیام نہایت ضروری تھا جہاں صرف لڑکیوں اور عورتوں کو رہائش فراہم کی جائے۔

صرف میونخ میں ہر مہینے اسیّ سے نوّے ایسی خواتین پناہ گزین آتی ہیں جن کے ساتھ کوئی مرد نہیں ہوتا۔ سماجی تنظیم کے مطابق ان خواتین کی اکثریت کو اپنے ملک میں اور سفر کے دوران تشدد، جنسی حملوں اور آبروریزی جیسے بھیانک تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ سماجی کارکنوں کی کوشش ہے کہ جرمنی آنے کے بعد انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں انہیں تحفظ کا احساس ہو سکے۔

انہی وجوہات کی بنا پر صرف خواتین کے لیے ایسی رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے جہاں شورش زدہ ممالک سے اکیلے سفر کے جرمنی پہنچنے والی تارک وطن خواتین بلا خوف و خطر اور آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گی۔

گارٹنر کا مزید کہنا تھا کہ اس شیلٹر ہاؤس کے قیام سے قبل مہاجرین کے لیے بنائے گئے ابتدائی استقبالیہ مراکز اور رہائش گاہوں میں خواتین کے لیے رہائش کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ اور ایسی جگہوں پر خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھی ناکافی انتظامات تھے۔

خواتین کے لے مختص کردہ اس شیلٹر ہاؤس کا بندوبست کرنے والی تنظیموں نے رہائش گاہ کی چوبیس گھنٹے حفاظت کا بھی بندوبست کر رکھا ہے۔

DW.COM