’جرمنی سے ملک بدر کر کے ہنگری نہیں بھیجا جا سکتا‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 18.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمنی سے ملک بدر کر کے ہنگری نہیں بھیجا جا سکتا‘

ایک جرمن عدالت کا کہنا ہے کہ ہنگری کے سیاسی پناہ سے متعلق موجودہ قوانین غیر معقول ہیں۔ جرمن جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہنگری میں مہاجرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ایک جرمن صوبے باڈن وُرٹمبرگ کی ایک عدالت نے ہنگری میں سیاسی پناہ کے موجودہ قوانین کو ناجائز اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق باڈن ورٹمبرگ کی انتظامی عدالت نے یہ بات ایک اٹھائیس سالہ شامی مہاجر کی جانب سے دائر کیے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہی۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

یہ شامی مہاجر 2014ء میں ہنگری کے راستے جرمنی پہنچا تھا۔ یورپی یونین کے ڈبلن قوانین کے مطابق کوئی بھی تارکِ وطن اسی ملک میں درخواست دے سکتا ہے جس کے ذریعے وہ یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوا ہو۔ اسی ڈبلن قانون کے تحت اس شامی مہاجر کو بھی جرمنی سے ملک بدر کر کے ہنگری بھیج دیا جانا تھا۔

جرمن حکام کی جانب سے ہنگری ملک بدر کیے جانے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد اس شامی مہاجر نے انتظامی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ اس کی درخواست پر مختصر فیصلہ پانچ جولائی 2016ء کو سنایا گیا تھا۔ آج اٹھارہ جولائی بروز پیر باڈن ورٹمبرگ کی انتظامی عدالت کے جج نے اس فیصلے کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔

جرمن عدالت کے جج نے شامی مہاجر کو ڈبلن قوانین کے تحت ہنگری بھیجنے کا فیصلہ معطل کر دیا۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ جرمنی سے ملک بدر کر کے ہنگری بھیجنے جانے کی صورت میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہنگری میں اس شامی مہاجر کو ممکنہ طور پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔

جرمن عدالت کے جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی پناہ سے متعلق ہنگری کے موجودہ قوانین کو دیکھا جائے تو اس شامی مہاجر کی پناہ کی درخواست پر ایک غیر جانبدار اور انصاف پر مبنی فیصلہ سنائے جانے کے امکانات بھی نہایت کم ہیں۔

عدالت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالت نے یہ فیصلہ صرف ایک شامی مہاجر کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے سنایا ہے لیکن اس فیصلے کے اثرات اس نوعیت کے موجودہ اور آئندہ دائر کیے جانے والی درخواستوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ہزاروں پناہ گزین اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

DW.COM