1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی سے مزید افغان تارکین وطن کی ملک بدری

سیاسی پناہ کے 18 ناکام افغان درخواست گزاروں کو جرمنی بدر کر کے افغانستان پہنچا دیا گیا ہے۔ ملک بدر کیے جانے والے اس گروپ میں شامل مرادی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اسے گرفتار کرنے کے بعد جبری طور پر کابل پہنچا دیا گیا۔

شمالی افغان صوبے سرے پل سے تعلق رکھنے والے مرادی نے کئی برس جرمنی میں گزارے تاہم اس کی جانب سے سیاسی پناہ کے لیے دائر کی جانے والی درخواست رد کر دی گئی۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے مرادی نے بتایا کہ گزشتہ شام اسے حراست میں لیا گیا اور پھر اسے فوراﹰ ہی ہوائی اڈے لایا گیا، جہاں سے ایک طیارے میں دیگر افغان تارکین وطن کے ساتھ اسے کابل پہنچا دیا گیا۔ مرادی نے بتایا کہ وہ واپس بھیجے جانے پر شدید افسوس اور نا امیدی کا شکار ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے مرادی کا کہنا تھا، ’’مجھے کچھ نہیں معلوم تھا۔ مجھے شہر سے حراست میں لیا گیا اور ہتھکڑی لگے ہاتھوں ہی سے جہاز میں بٹھا کر کابل پہنچا دیا گیا۔ میں نے چھ برس جرمنی میں گزارے اور مجھے معلوم نہیں کہ میری سیاسی پناہ کی درخواست کیوں مسترد کی گئی۔ جرمن حکام جب کسی کو قبول نہیں کرتے تو اسے فوراﹰ ہی بتا دیتے ہیں۔ میں سخت محنت اور جان جوکھوں میں ڈال کر جرمنی پہنچا تھا اور اس کے لیے میں نے بہت سرمایہ بھی خر چ کیا۔ مجھے کابل میں کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی، بس ایک ٹکٹ دیا گیا کہ میں مزار شریف پہنچ جاؤں۔ اس وقت میں نہایت ناامید ہوں۔‘‘

Afghanistan abgeschobene Flüchtlinge aus Deutschland kommen in Kabul an (Getty Images/AFP/W. Kohsar)

کابل پہنچنے والے تارکین وطن

جرمنی میں سیاسی پناہ کے ناکام افغان درخواست گزاروں کا تیسرا گروپ گزشتہ روز جنوبی شہر میونخ سے کابل پہنچایا گیا تھا۔ جرمنی حکومت سیاسی پناہ کے ناکام درخواست گزاروں کو ملک بدر کرنے کے اقدامات میں تیزی لا رہی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ نے بدھ کے روز اس سلسلے میں نئے اقدامات کی منظوری دی ہے، جس میں سیاسی پناہ کے ایسے ناکام درخواست گزار جن کی شہریت یا شناخت میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں، ان کے موبائل فون بھی قبضے میں لیے جا سکیں گے۔

جرمن اور افغان حکومت کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کابل حکومت کو پابند بنایا گیا تھا کہ وہ ملک بدر کیے جانے والے افغان باشندوں کو قبول کرے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب تک 80 افغان شہری، جو تمام کے تمام مرد تھے، جرمن حکومت کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست رد کیے جانے کے بعد وطن واپس بھیجے جا چکے ہیں۔