1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی سے مایوس پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی

گزشتہ برس موسم بہار سے لے کر اب تک جرمنی سے دو ہزار کے قریب تارکین وطن رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ کر گئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ان مہاجرین کی اکثریت کا تعلق جنگ زدہ ملک عراق سے تھا۔

یہ بات جرمن اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ نے جرمنی میں مہاجرین کے امور پر نظر رکھنے والے GASIM نامی ادارے کی ایک تحقیقی رپورٹ کے حوالے سے اپنی خبروں میں لکھی ہے۔

مایوس مہاجرین آسٹریا سے اپنے اپنے وطن واپس جانے لگے

میرکل کی کابینہ پناہ کے نئے اور سخت قوانین پر متفق

ویلٹ ام زونٹاگ کے مطابق اس ادارے کی جو رپورٹ انہیں ملی ہے وہ اسی مہینے تیار کی گئی ہے اور اسے عوامی سطح پر پیش نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے عراقی شہریوں سے اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا گیا تو زیادہ تر کا کہنا تھا کہ جرمنی پہنچانے والے انسانوں کے اسمگلروں نے ان کے ساتھ جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔

Irakische Flüchtlinge am Flughafen Tegel

رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے ایک عراقی تارک وطن سفری دستاویزات دکھاتے ہوئے

GASIM کی اس تازہ ترین رپورٹ میں لکھا گیا ہے، ’’زیادہ تر تارکین وطن کو فراہم کی گئی رہائش گاہوں پر عدم اطمینان، روزگار کے مواقع کی کمی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خراب معاشی صورت حال کے علاوہ سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں سست روی جیسی وجوہات نے ان پناہ گزینوں کو مایوس کیا۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یکم ستمبر سے لے کر فروری 2016ء تک 1970 عراقی رضاکارانہ طور پر جرمنی سے واپس جا چکے ہیں۔ ڈوسلڈورف، فرینکفرٹ اور میونخ کے ہوائی اڈوں سے رضاکارانہ طور پر واپس عراق جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ واپس جانے والے زیادہ تر تارکین وطن نے جرمنی میں اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں بھی واپس لے لی تھیں۔ پناہ گزینوں میں پائے جانے والے عدم اطمینان اور مایوسی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ آئندہ مہینوں کے دوران بھی خاص طور پر عراقی تارکین وطن کی رضاکارانہ واپسی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جرمنی میں گزشتہ برس کے دوران ایک لاکھ 20 ہزار عراقی شہریوں نے پناہ کی درخواستیں دی تھیں۔ یہ تعداد شامی اور افغانی تارکین وطن کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق عراق سے آنے والے 88 فیصد پناہ گزینوں کو جرمنی میں سیاسی پناہ دے دی جاتی ہے۔

DW.COM