جرمنی سے فن لینڈ تک: انتہائی تیز رفتار زیر سمندر رابطہ فعال | سائنس اور ماحول | DW | 20.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمنی سے فن لینڈ تک: انتہائی تیز رفتار زیر سمندر رابطہ فعال

جرمنی سے لے کر فن لینڈ تک بحیرہ بالٹک کے نیچے بچھائی گئی انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ ڈیٹا کیبل نے باقاعدہ طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس بارہ سو کلومیٹر طویل کیبل رابطے کو ’شمالی ڈیجیٹل ہائی وے‘ کا نام دیا گیا ہے۔

Kabel Arctic Fibre Glasfaserleitung Internet China Taiwan Japan Atlantik Pazifik

سمندر کے نیچے بچھائی گئی یہ کیبل بارہ سو کلومیٹر طویل ہے

فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی سے جمعہ بیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس انتہائی جدید زیر سمندر انٹرنیٹ رابطے کا قیام فن لینڈ کے سرکاری انتظام میں کام کرنے والے ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکنگ کے ماہر سینیا (Cinia) گروپ نے مکمل کیا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس جدید ترین منصوبے پر کتنی لاگت آئی۔

بحیرہ بالٹک کے نیچے سے گزرنے والی 1200 کلومیٹر یا 745 میل طویل اس انٹرنیٹ کیبل نے شمالی جرمنی میں روسٹوک (Rostock) کے شہر کو فن لینڈ میں ہیلسنکی سے نہ صرف جوڑ دیا ہے بلکہ آج ہی سے اس کیبل نے کام بھی کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے اب تک کے مقابلے میں انتہائی تیز رفتاری سے ڈیٹا ٹرانسفر ہونا شروع بھی ہو گیا ہے۔ سینیا گروپ کے مطابق اس ڈیٹا لنک کو C-Lion1 کیبل سسٹم کا نام دیا گیا ہے، جسے عرف عام میں شمالی یورپ میں اس کے مقام کی وجہ سے ’شمالی ڈیجیٹل ہائی وے‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کیبل کے ذریعے 144 ٹیرا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے انٹرنیٹ ڈیٹا منتقل کیا جا سکتا ہے، جو کچھ عرصہ پہلے تک ناقابل یقین رفتار تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اس نئے رابطے سے نہ صرف شمالی یورپ کا بحیرہ بالٹک کے جنوب میں واقع ریاستوں کے ساتھ انٹرنیٹ رابطہ بہت بہتر ہو گیا ہے بلکہ مستقبل میں اس ’متاثر کن ترقی‘ سے مغربی اور مشرقی یورپی ملک بھی فائدہ اٹھا سکیں گے، جب اس کیبل رابطے میں توسیع کرتے ہوئے دوسرے ملکوں کو بھی اس سے جوڑ دیا جائے گا۔

سینیا گروپ کے مطابق فن لینڈ کے لیے یہ نیا انٹرنیٹ رابطہ اس کے یورپ کے ساتھ ان ڈیٹا لنکس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تیز ہے، جو اب تک فن لینڈ کو سویڈن کے راستے باقی ماندہ یورپ سے ملاتے تھے۔

Symbolbild Datenzentrum

ہیلسنکی میں کئی بہت بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں نے اپنے ڈیٹ سینٹرقائم کر رکھے ہیں

اس الٹرافاسٹ کیبل سسٹم کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ امریکا کی گوگل اور مائیکروسافٹ اور روس کی یانڈکس (Yandex) نامی ان کمپنیوں کے لیے بھی بہت سود مند رہے گا، جنہوں نے فن لینڈ میں اپنے غیر معمولی حد تک بڑے ڈیٹا سینٹر قائم کر رکھے ہیں۔

ڈیٹا سٹوریج کے لیے دنیا کی بڑی بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے یورپ کے انتہائی شمال میں واقع فن لینڈ اس لیے بھی بہت پرکشش ہے کہ وہاں کی آب و ہوا ٹھنڈی ہے، بجلی کے نرخ بہت کم ہیں اور ہیلسنکی حکومت کی طرف سے غیر ملکی کمپنیوں کو ٹیکسوں میں قانوناﹰ مناسب چھوٹ بھی دی جاتی ہے۔

جرمنی اور فن لینڈ کو زیر سمندر جوڑنے والے اس انٹرنیٹ رابطے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے شمالی یورپی ڈیٹا مراکز کو مغربی یورپی کاروباری اداروں کے ساتھ ’تیز ترین اور مختصر ترین‘ راستے سے ملا دیا ہے۔

اس کیبل سسٹم کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری جرمنی کے آئی ٹی نیٹ ورکنگ کے ماہر ادارے ہیٹسنر (Hetzner) نے کی، جو اس وقت ہیلسنکی میں 200 ملین یورو کی لاگت سے اپنا بھی ایک آن لائن ڈیٹا سینٹر قائم کر رہا ہے۔