1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی سے بے دخل سرب، ایک دشوار وقت سامنے

سربیا سے ترک وطن کر کے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والوں کو ممکنہ طور پر وطن واپس بجھوایا جا سکتا ہے، کیوں کہ برلن سربیا کو ایک محفوظ ملک قرار دے چکا ہے اور وہاں کے شہریوں کو سیاسی پناہ دینا دشوار ہو گا۔

جرمنی میں قریب دو لاکھ سرب تارکین وطن بستے ہیں، جن کے پاس رہائشی اجازت نامہ نہیں یا جنہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔ ابتدا میں ان افراد نے سابقہ یوگوسلاویہ میں خانہ جنگی کی صورت حال کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑا اور جرمنی پہنچ گئے تاہم وہاں غربت اور بے روزگاری میں اضافے اور دیگر وجوہات کی بنا پر بعد میں بھی سربیا سے تارکین وطن جرمنی آتے رہے۔

ایسے تارکین وطن جو جرمنی میں نوکری تلاش نہیں کر پاتے، سیاسی پناہ کی درخواست دے دیتے اور حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھانے لگتے ہیں۔ سربیا سے تعلق رکھنے والے افراد میں سے 90 فیصد روما نسل باشندوں کی ہے، جو غربت کے ساتھ ساتھ منظم نسلی تفریق کے شکار بھی ہیں۔

Ungarn Serbien Grenze Flüchtlinge

مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے مہاجرین کی بڑی تعداد یورپ پہنچ رہی ہے

تاہم جرمن حکومت کے مطابق ان دو لاکھ افراد میں سے کوئی بھی جرمنی میں نہیں رہے گا، کیوں کہ برلن حکومت نے سربیا، مقدونیہ اور بوسنیا کو محفوظ ممالک قرار دے دیا ہے اور اب ان ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو جرمنی میں سیاسی پناہ ملنا بہت مشکل ہے۔

سیاسی پناہ سے متعلق جرمن قانون کے مطابق ان بلقان ریاستوں میں سے کہیں بھی نہ تو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

سن 2008ء سے اب تک تقریباﹰ سات ہزار سرب باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے ،جب کہ مزید دو ہزار افراد کو رواں برس کے اختتام تک سربیا کے حوالے کر دیا جائے گا۔

مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے یورپ اور خصوصاﹰ جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کے سیلاب کی وجہ سے برلن حکام کے پاس نہایت کم راستے ہیں کہ وہ بلقان ریاستوں کے تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کو بھی مثبت جواب دے پائیں۔ حکام کے مطابق جرمنی اگلے کچھ عرصے میں سربیا، کوسووو اور البانیہ سے تعلق رکھنے والے قریب 75 ہزار تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کو مسترد کر کے ان افراد کو وطن واپس بھیج دے گا جب کہ وطن واپسی کے عمل کو تیز تر بھی بنایا جائے گا۔

وطن واپس لوٹنے والے ان افراد کے انتظام و انصرام میں مصروف حکومتی عہدیدار مِسکووِچ کے مطابق، ’’سربیا نے وطن واپس لوٹنے والے افراد کو ری ایڈمیشن معاہدے کے تحت معاشرتی انضمام کی ایک حکمت عملی بنا رکھی ہے۔ ان افراد کو رہائش اور دیگر سہولیات کے لیے گزشتہ برس ایک لاکھ 65 ہزار یورو خرچ کیے گئے۔‘‘

جرمنی سے بے دخل کیے جانے والے یہ افراد سربیا پہنچنے پر یا تو دوبارہ اپنے اہلِ خانہ سے جا ملتے ہیں یا انہیں شَبَتس اور بیلا پلانکا کے علاقے میں قائم خصوصی مراکز میں رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ یہاں ان افراد کو ایک چھوٹا سا کمرہ اور خوراک دی جاتی ہے اور ملکی دستاویزات دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔