1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی سے ’بھیک‘ نہیں مانگیں گے، ترک وزیر خارجہ

ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جرمنی اگر چاہتا ہے تو وہ ترک ایئر بیس سے اپنے فوجی واپس بلا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان جرمن فوجیوں کی ترکی میں تعیناتی کی خاطر انقرہ حکومت برلن سے بھیک نہیں مانگے گی۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی ترکی میں واقع اینجرلیک ایئر بیس سے اپنے فوجی واپس بلا سکتا ہے۔ انہوں نے استبول میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انقرہ ان فوجیوں کی ترکی میں تعیناتی کے بارے میں برلن حکومت سے بھیک نہیں مانگے گا۔

ترکی نے جرمن اراکین پارلیمان کو فوجی بیس پر آنے کی اجازت دے دی

جرمنی اور ترکی کے مابین پھر تناؤ

داعش کو کیسے کُچلا جائے؟ مغربی فوجی سربراہان جمع

 اس فوجی اڈے پر جرمنی کے دو سو ستر فوجی تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کے دو ٹورناڈو طیارے بھی وہاں موجود ہیں۔ یہ جرمن مشن اینجرلیک میں موجود امریکی فوجی دستوں کے ساتھ مل کر انتہا پسند تنظیم داعش کے خلاف جاری عالمی کارروائی کا حصہ ہے۔

انقرہ حکومت کی طرف سے ایک جرمن پارلیمانی وفد کو اینجرلیک ایئر بیس پر تعینات جرمن فوجیوں سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے عندیہ دیا ہے کہ برلن حکومت ترکی میں موجود جرمن فوجیوں کو واپس بلا سکتی ہے۔ اس فوجی چھاؤنی میں امریکی فوجی بھی تعینات ہیں، جو داعش کے خلاف جاری عالمی کارروائی میں شریک ہیں۔

ایسی خبریں بھی ہیں کہ جرمنی ان فوجیوں کو ترکی سے واپس بلا کر اردن، قبرض یا پھر کویت میں تعینات کر سکتا ہے۔ تاہم خبر رساں ادارے اے اپی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمنی نے اس کشیدگی کے خاتمے کی خاطر امریکی مدد بھی مانگ لی ہے۔

این ڈی وی ٹیلی وژن سے گفتگو میں ترک وزیر خارجہ چاؤش آولو نے کہا، ’’یہ جرمنی کا انتخاب ہے۔ ہم بھیک نہیں مانگیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر جرمن فوجی واپس جانا چاہتے ہیں تو ہم انہیں خدا حافظ کہیں گے۔ انہوں نے ایسے الزامات کو مسترد کر دیا کہ ترکی اس تمام معاملے میں جرمنی کو بلیک میل کرنے کی کوشش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کو ترکی ساتھ دوستانہ برتاؤ کرنا چاہیے نہ کہ مالکوں والا۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی طرف سے اپنے رکن ملک ترکی کی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ یہ بات ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولُو نے آج جمعرات کے روز کہی۔

ترک وزیر نے یہ بات برسلز میں ہونے والے نیٹو کے ایک اہم اجلاس سے صرف چند روز قبل اپنے ایک انٹرویو میں کہی۔ نیٹو کا یہ اجلاس اگلے ہفتے ہو گا۔ نیٹو کے رکن ملک کے طور پر ترکی کے دیگر رکن ریاستوں خاص طور پر جرمنی سے تعلقات حالیہ مہینوں میں کافی کشیدہ ہو چکے ہیں۔

DW.COM