1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: سوشل میڈیا قوانین

جرمنی میں اب سماجی ویب سائٹس کے ذریعے نفرت پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے گی۔ نئے سوشل میڈیا قانون میں صرف صارفین پر ہی نہیں بلکہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی واضح ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔

جرمن پارلیمان نے جمعے کے روز جو نیا سوشل میڈیا قانون منظور کیا ہے، اُس کے ذریعے فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب جیسی ویب سائٹس پر لازم کیا گیا ہے کہ اگر اُن کا کوئی صارف کسی پوسٹ کے خلاف شکایت کرتا ہے تو اُنہیں اِس مواد کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ویب سائٹ سے ہٹانا ہو گا۔ اس کے علاوہ مبہم تحریر یا پوسٹ ہٹانے کے لیے اِن ویب سائٹس کو سات دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کمپنی پر پچاس ملین یورو تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

رواں برس جنوری اور فروری میں یوٹیوب نے ایسی نوے فیصد ویڈیوز اپنی ویب سائٹ سے ہٹائیں، جن کے بارے میں شکایات کی گئی تھیں۔ ٹویٹر نے صرف ایک فیصد جبکہ فیس بک نے ایسی انتالیس فیصد پوسٹ حذف کر دی تھیں۔

دنیا بھر میں عوامیت پسندانہ اور شدت پسندانہ سوچ رکھنے والوں کی جانب سے سماجی ویب سائٹس کو اپنے نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کے بعد سے مختلف حلقوں کی جانب سے اس طرح کی قانون سازی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ جبکہ کچھ حلقوں کا خیال تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہو گی۔ برلن کے چند مبصرین کہتے ہیں کہ اس قانون کے بارے میں ویسے بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا اور شاید اس میں اصلاحات لانے کی بھی ضرورت پڑے۔

ذرائع کے مطابق اس قانون کو رواں برس یکم اکتوبر سے نافذ کیا جا سکتا ہے اور  اس کا اطلاق صرف بڑی سماجی ویب سائٹس پر  ہو گا۔ اس سلسلے میں جو حد مقرر کی گئی ہے، اس کے تحت صرف اُنہی ویب سائٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے گی، جن کے صارفین کی تعداد تقریباً دو ملین ہو گی یا پھر جس کے خلاف سالانہ بنیادوں پر کم از کم ایک سو شکایتیں موصول ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسٹارٹ اپ کمپنیوں پر فی الحال یہ قانون لاگو نہیں ہو گا۔

تاہم یہ امر بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی کمپنی جرمنی میں ’نفرت انگیزی‘ کا سہارا  لے کر تیزی سے کامیابی کی قدم چومنا چاہتی ہے تو اب اُسے بہت سوچ سمجھ کر اپنی پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی۔

ملتے جلتے مندرجات