1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر منتخب

جرمنی، پرتگال، بھارت، جنوبی افریقہ اورکولمبیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل ممبران منتخب کر لئے گئے ہیں۔

default

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے

ان ممالک کا اقوام متحدہ کی اہم ترین کونسل کا ممبر بننے سےعالمی امن کے لئے کی جانے والی کوششوں میں مثبت تبدیلی کے امکانات ظاہر کئے گئے ہیں۔

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقد کئے گئے ایک خصوصی اجلاس میں ان ممالک کو دو سال کے لئے غیرمستقل ممبر کا درجہ دیا گیا، جس کا اطلاق یکم جنوری سن 2011ء سے شروع ہو گا۔ بھارت، جنوبی افریقہ اورکولمبیا کو یہ اعزاز بغیر کسی مقابلے کے ہی مل گیا کیونکہ ان کے مد مقابل کوئی امیدوار نہیں تھا۔ یہ نشستیں یوگنڈا، جاپان اور میکسیکوخالی کر رہے ہیں۔

جرمنی اور پرتگال یہ مقابلہ ووٹنگ کے بعد جیتے۔ جرمنی اور پرتگال اب دو سال کے عرصے کے لئے سلامتی کونسل میں مغربی یورپ کی نمائندگی کریں گے۔ اس سے قبل یہ اعزاز ترکی اور آسٹریا کے پاس تھا۔ ووٹنگ کے دو راؤنڈز کے بعد بھی جب کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو کینیڈا نے غیر مستقل رکن بننے کی اپنی درخواست واپس لے لی، جس کے نتیجے میں پرتگال کو منتخب کر لیا گیا جبکہ جرمنی پہلی ووٹنگ میں ہی یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

جرمن وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل میں جرمنی کے غیر مستقل رکن منتخب ہونے کو ایک اہم ذمہ داری سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ برلن حکومت اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر شانہ بشانہ کام کرے گی۔ ووٹنگ کے وقت وہاں موجود گیڈو ویسٹرویلے نے کہا،’ عالمی رہنماؤں کو اندازہ ہے کہ وہ جرمنی پر اعتماد کرسکتے ہیں، اب جرمنی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دنیا بھر میں امن، سلامتی اور ترقیاتی منصوبہ جات میں اپنا مزید مؤثر کردارادا کرے‘۔

NO FLASH UN Sicherheitsrat in New York

سلامتی کونسل کا غير مستقل رکن منتخب ہونے کے لئے 192 ممالک کی اسمبلی ميں دو تہائی اکثريت کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے

سلامتی کونسل کا مستقل رکن ملک بننے کی خواہش رکھنے والے ملک بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے ملک کے لئے غیر مستقل ممبر کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد کہا کہ بھارت اعتدال پسندانہ اور تعمیری کردار ادا کرے گا۔

سلامتی کونسل کا غير مستقل رکن منتخب ہونے کے لئے 192 ممالک کی اسمبلی ميں دو تہائی اکثريت کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے اور يہ اميدوار دنيا کے پانچ خطوں ميں واقع ممالک سے لئے جاتے ہيں۔

سلامتی کونسل کے کل پندرہ رکن ممالک ہیں، جن میں سے دس غیر مستقل رکن ممالک ہوتے ہیں، جن کا انتخاب ہر دو سال بعد کیا جاتا ہے جبکہ روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین اقوام متحدہ کی اس اہم کونسل کے مستقل ممبر ہیں، جو کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا حق حاصل رکھتے ہیں، یعنی اگر ان میں سے کوئی بھی ملک کسی فیصلے کے خلاف ہو، تو اُسے منظور نہیں کیا جا سکتا۔ منگل کو دس میں سے پانچ غیر مستقل ممبر رکن ممالک کا انتخاب کیا گیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM