1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: ساڑھے پانچ ہزار تنہا مہاجر بچے کہاں کھو گئے؟

جرمنی میں بچوں کی بہبود کے ایک نجی سماجی ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں تنہا آنے والے پانچ ہزار سے زائد مہاجر بچے ’لا پتہ‘ ہیں۔ ان میں سے کئی کی عمریں تیرہ برس سے بھی کم ہیں۔

ڈی ڈبلیو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جرمنی میں بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم ’ڈوئچے کنڈر ہِلف ورک‘ کی ترجمان لنڈا زائیانے نے بتایا کہ جرمنی میں تنہا آنے والے اٹھارہ برس سے کم عمر کے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد مہاجر بچے ’گمشدہ‘ تصور کیے جا رہے ہیں۔

اٹلی: نابالغ مہاجر بچوں کا تحفظ، قانون پر جلد عملدرآمد ضروری

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

ایک سوال کے جواب میں زائیانے کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ہر تین ماہ بعد جرائم سے متعلق وفاقی جرمن پولیس سے گم ہو جانے والے تنہا مہاجر بچوں کے نئے اعداد و شمار حاصل کرتی ہے۔

ان اعداد و شمار میں ایک پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ خاص طور پر ایسے تنہا مہاجر بچوں کی، جن کی عمریں تیرہ برس سے بھی کم ہیں، گمشدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر جرمنی میں ساڑھے پانچ ہزار گمشدہ نابالغ مہاجر بچوں میں سے قریب ایک ہزار کی عمریں تیرہ برس سے بھی کم ہیں۔

زائیانے نے یہ بھی بتایا کہ صرف جرمنی ہی نہیں بلکہ یورپ بھر میں نابالغ بچوں کی گمشدگی کی اطلاعات ہیں۔ مجموعی طور پر یورپ میں ایسے گمشدہ کم عمر تارکین وطن کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک کی حکومتیں ان بچوں کے حوالے سے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔

بچوں کی بہبود سے متعلق اس جرمن سماجی تنظیم کی ترجمان سے ڈی ڈبلیو نے پوچھا کہ یہ گمشدہ بچے کہاں گئے اور ان کے گمشدہ ہونے کے محرکات کیا ہیں تو ان کا کہنا تھا اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

زائیانے کے مطابق ممکنہ طور پر شاید کئی بچے دوسرے یورپی ممالک میں اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں بعض اوقات بچوں کا اندراج بھی ایک سے زائد مرتبہ ہونے کے باعث بھی ان اعداد و شمار پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ادارے کی اپنی تحقیقات کے مطابق کئی نابالغ تارک وطن بچے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں اور ممکنہ طور پر انہیں منشیات کی اسمگلنگ اور منظم جسم فروشی جیسے کام لیے جاتے ہیں۔

Infografik unbegleitete minderjährige Flüchtlinge englisch

جرمنی میں تنہا نابالغ مہاجر بچوں سے متعلق گراف

انہوں نے ایسے بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرنے کے باعث جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی حکومتوں پر شدید تنقید کی۔ زائیانے کا کہنا تھا کہ اگر یورپی حکومتیں ایسے نابالغ مہاجر بچوں کو ان کے عزیز و اقارب تک پہنچانے میں معاونت فراہم کریں تو ان کی گمشدگی کم ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے یورپی سطح پر منظم اور ٹھوس اقدامات کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔

معاشی تارکین وطن کی ملک بدریوں میں تیزی پر اتفاق

یونان میں سیاسی پناہ کے قانون پر ایک نظر

ویڈیو دیکھیے 00:47

کیا تارکین وطن کو جرمنی آتے ہی ملازمت مل جاتی ہے؟

DW.COM

Audios and videos on the topic