1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی: سال نو کے موقع پر جنسی حملے، پہلے مقدمے کی سماعت

2016ء کا سال شروع ہوا تو دنیا بھر کی طرح جرمنی میں بھی اس کا بھرپور استقبال کیا گیا تاہم اس بار کے سالِ نو کے جشن پر لاتعداد جنسی حملوں کی چھاپ رہی۔ اب ان حملوں کے ایک پہلے ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا ہے۔

Deutschland Silvesternacht vor dem Hauptbahnhof in Köln

کولون میں سالِ نو کا ایک منظر، پولیس اور استغاثہ کو اُس رات ہونے والے جرائم کی گیارہ سو سے زائد شکایات موصول ہوئی تھیں

2016ء کے ابتدائی لمحات میں ہونے والے ان جنسی حملوں نے پورے جرمنی کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ان واقعات کی پوری دنیا کی جانب سے مذمت کی گئی تھی۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں اپنی نوعیت کے اس پہلے مقدمے کی سماعت شہر ڈسلڈورف کی ایک عدالت میں شروع ہوئی ہے۔ اس تینتیس سالہ ملزم کا تعلق مراکش سے بتایا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ سالِ نو کی رات اُس نے کولون کے مرکزی علاقے میں چند دیگر نامعلوم افراد کے ہمراہ، جن کی تعداد پندرہ سے لے کر بیس تک تھی، ایک خاتون کو گھیرے میں لے لیا تھا اور اُس کے جسم کے نازک اعضاء پر ہاتھ لگاتے ہوئے اُسے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ اس خاتون نے ایک ٹیلی وژن رپورٹ میں اپنے اس حملہ آور کو پہچان لیا تھا۔ مراکش کے اس تینتیس سالہ شخص پر استغاثہ کی جانب سے دو مزید الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق خطرناک حد تک زد و کوب کرنے اور دوسرے کا املاک کو نقصان پہنچانے سے ہے۔ یکم جون تک مزید تین مرتبہ اس کیس کی سماعت ہو گی۔

عدالت کے ایک ترجمان کے مطابق ملزم کے وکیل نے متعلقہ کیس فائلز ابھی مکمل طور پر دستیاب نہ ہونے کے پیشِ نظر درخواست کی تھی کہ پیر گیارہ اپریل کی سماعت ملتوی کر دی جائے تاہم اس درخواست کو رَد کر دیا گیا۔

مختلف نیوز ایجنسیوں کی متفقہ رپورٹوں کے مطابق پولیس اور استغاثہ کو اُس رات ہونے والے جرائم کی گیارہ سو سے زائد شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ان میں سے چار سو اَسّی سے زیادہ شکایات جنسی حملوں سے متعلق تھیں، جن میں ہراساں کرنے سے لے کر آبروریزی کا نشانہ بنانے تک کے واقعات کا ذکر کیا گیا تھا۔

Deutschland Silvesternacht vor dem Hauptbahnhof in Köln

جرمن شہر کولون کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر نئے سال کے آغاز پر ہونے والے جشن کا ایک منظر

پولیس تقریباً ایک سو بیس کیسز میں تحقیقات کر رہی ہے تاہم اب تک صرف ایک شخص پر جنسی حملوں کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ اس نوجوان کی عمر چھبیس برس ہے اور اُس کا تعلق الجزائر سے ہے۔

اس سال فروری میں تین افراد کو سالِ نو کی شب چوری کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک کا تعلق تیونس سے جبکہ دو کا مراکش سے تھا۔

ان واقعات نے جرمنی میں، جہاں 2015ء میں ایک ملین سے زائد غیر ملکی پناہ کی تلاش میں پہنچے، یہ بحث چھیڑ دی تھی کہ پناہ کے متلاشی ایسے تارکینِ وطن کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے، جنہیں جرائم کے لیے قصور وار قرار دیا گیا ہو۔