1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی، سابقہ صنعتی علاقے میں سیاحت کا فروغ

جرمنی میں طویل جاڑے کے بعد بہار کی آمد آمد ہے اور سیاحوں میں مشہور، ملک کے مشرقی علاقوں کا ایک شہر اپنی نئی پہچان بنانے میں جُتا ہوا ہے۔

default

ماضی میں کان کنی کے حوالے سے مشہور لوشاسیا Lusatia کے علاقے میں اب سیاحوں کو مائل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ دارالحکومت برلن سے ساٹھ میل مشرق میں واقع اس علاقے کا ماضی توانائی کی صنعت کے حوالے سے مشہور رہا ہے۔

دیوار برلن کے انہدام سے قبل تک یہیں سے مشرقی جرمنی کے لیے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئلہ فراہم کیا جاتا تھا۔ مقامی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید کوئلہ نکالنے کی قیمت یہ ادا کرنے پڑ رہی تھی کہ رہائشی علاقوں کو خالی کرایا جائے اور کوئلہ نکالنے کے لیے کھدائی کی جائے، جو ظاہر ہے کہ نقصان کا سودا ہوتا۔

اب یہاں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک گروپ IBA قائم ہوگیا ہے۔ اس سے وابستہ جینین ماہلر کے بقول، ’’ گزشتہ 150 برس میں کان کنی کے لیے یہاں کے لگ بھگ 80 دیہات تباہ کیے گئے یعنی چالیس ہزار سے زائد افراد علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے‘‘۔ 1990ء میں، جب مشرقی جرمنی کی حکومت گرگئی، تو یہاں کان کنی کا بیشتر کام روک دیا گیا اور لوگ بے روزگار ہوگئے مگر بعد میں جرمن حکام نے یہاں معیشت کی بحالی کے لیے 8 ارب یورو سے زائد کی سرمایہ کاری کی۔ اس بجٹ کے تحت شروع کیے گئے بیشتر کام سیاحت سے متعلق ہیں

Flash Galerie Minig Tours

لوشاسیا کا ایک منظر

یہاں آنے والے سیاحوں کو جیپ میں سوار کر کے یہاں کے صنعتی ماضی کی نشانیاں دکھائی جاتی ہیں۔ مقامی افراد رہنما کے طور پر ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ کان کنی کی پرانی دیوقامت مشینیں بھی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں جبکہ رات کے اوقات میں مصنوعی روشنیوں اور آوازوں سے ایسا سماں پیدا کیا جاتا ہے جیسا کہ کانوں میں کوئلہ نکالنے کا عمل جاری ہو۔

اس طرز کی صنعتی سیاحت جرمنی کے Ruhr اور رائن لینڈ کے علاقوں میں پہلے ہی مقبول ہے مگر لوشاسیا میں سابقہ کانوں کو استعمال کرتے ہوئے یورپ کا سب سے بڑا مصنوعی جھیلوں والا ضلع تخلیق کرنے کی کوشش اسے انفرادیت بخشتی ہے۔ یہاں 23 مخلتف قسم کی جھیلیں ہیں۔ موسم بہار اور گرما میں یہاں مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی چہل پہل دیدنی ہوتی ہے مگر سردی اور خزاں کے موسم میں ویرانی سے مقامی افراد اکتا جاتے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM