1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی، دیگر ملکوں میں متحدہ یورپ کے حق میں بڑے عوامی مظاہرے

جرمنی سمیت کئی یورپی ملکوں کے بہت سے شہروں میں لاکھوں شہریوں نے اتوار دو اپریل کے روز متحدہ یورپ کے حق میں مظاہرے کیے۔ عوامی سطح پر ان مظاہروں کے ہر ہفتے انعقاد کا سلسلہ گزشتہ برس کے آخر میں شروع کیا گیا تھا۔

جرمن دارالحکومت برلن سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اتوار دو اپریل کے روز ان مظاہروں کا اہتمام جرمنی سمیت یورپی یونین کے کئی دیگر رکن ملکوں میں بھی کیا گیا اور ان کا مقصد متحدہ یورپ کے تصور کے لیے عملی تائید و حمایت کا اظہار تھا۔

ان عوامی مظاہروں کے اہتمام کا سلسلہ 2016ء کے آخر میں عوامی سطح پر کام کرنے والی ایک تنظیم ’پَلس آف یورپ‘ یا ’یورپ کی نبض‘ کی طرف سے شروع کیا گیا تھا، جو اب کئی یورپی ملکوں میں پھیل چکی ہیں۔

برطانیہ کے ساتھ تعلقات پر متوازی بات چیت نہیں ہو سکتی، میرکل

بریگزٹ کے فوری بعد بھارتی برطانوی تجارتی معاہدے کا امکان کم

برطانیہ نے یورپی یونین سے ’طلاق‘ کی دستاویز پر دستخط کر دیے

اتوار چھبیس مارچ کی طرح کل اتوار دو اپریل کے دن بھی برلن میں ایسے ہی ایک مظاہرے میں ہزار ہا شہریوں نے حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے متحدہ یورپ کے حق میں آواز بلند کرنے کا مقصد یہ سوچ ہے کہ یورپی ریاستوں میں بڑھتی ہوئی قوم پسندانہ ذہنیت کی مخالفت کی جانا چاہیے اور ان سیاسی قوتوں کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، جو ایک بلاک کے طور پر یورپی یونین کی مخالفت کرتی ہیں۔

London Pro Europa Demonstration (Getty Images/AFP/D. Leal-Olivas)

مارچ کے آخری اتوار کے روز لندن میں اہتمام کردہ پَلس آف یورپ کے عوامی مظاہرے کی ایک تصویر

یورپی یونین کے رکن ملکوں میں، چاہے وہ جرمنی اور فرانس ہوں یا پھر اٹلی اور ہنگری جیسی ریاستیں، ان مظاہروں کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کی وضاحت کل دو اپریل کو برلن کے مظاہرے میں شریک ایک بزرگ جرمن شہری کرسٹیان کے موقف کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔

گزشتہ قریب نصف صدی سے اپنی اہلیہ کے ساتھ برلن میں رہنے والے اس جرمن شہری نے کہا، ’’ہم نے اس شہر کی تقسیم بھی دیکھی ہے، دیوار برلن کا گرایا جانا اور سرد جنگ کا خاتمہ بھی۔ اب آئندہ نسلوں کے لیے قوم پسندی کے حق میں اور یورپی اتحاد کے منافی سوچ کے تحت نئی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سوچ کو محض ایک ڈراؤنا خواب ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہم اسی سوچ کی مخالفت کے لیے ان مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔‘‘

DW.COM