1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی، دوسری عالمی جنگ کا بم کرسمس کے دن ناکارہ بنایا جائے گا

کرسمس کے دن جنوبی جرمن شہر آؤگسبرگ سے 54 ہزار افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑ گئے۔ حکام اس شہر پر دوسری عالمی جنگ کے دوران گرائے گئے ایک بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔

جرمن شہر آؤگسبرگ میں کرسمس کی خوشیاں کا مزہ اس وقت اچانک کرکرا ہو گیا، جب حکام نے کہا کہ پچیس دسمبر بروز اتوار ماہرین دوسری عالمی جنگ کے دوران اس شہر پر گرائے گئے ایک بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کریں گے۔

بون کے قریب ’زمانہ جنگ کے بم‘ کا دھماکا

ڈریسڈن پر بمباری: ستر برس بعد بھی متاثرین کے لیے تازہ

برلن: دوسری عالمی جنگ کا ایک بم ناکارہ بنا دیا گیا

دوسری عالمی جنگ کے دوران آؤگسبرگ میں یہ بم برطانوی فوج نے گرایا تھا، جو پھٹا نہیں تھا۔  یہ بم گزشتہ منگل کے دن ایک تعمیراتی سائٹ سے اچانک برآمد ہوا تھا۔ اس بم کا وزن ایک اعشاریہ آٹھ ٹن بتایا گیا ہے۔

حکام نے اس بم کو ناکارہ بنانے کے عمل کے دوران احتیاطی طور پر شہر کے چوّن ہزار نفوس کو محفوظ مقامات پر منتقل ہو جانے کی ہدایات کی ہیں۔ ساتھ ہی نو سو کے قریب پولیس اہلکار بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔

آؤگسبرگ کے میئر کیرٹ گریبی نے ایک ویڈیو پیغام میں شہریوں سے اپیل کی کہ اگر ممکن ہو تو  شہر کے تمام لوگ اپنے طور پر ہی اس علاقے سے نکل جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ بم کو ناکارہ بنانے کے عمل کے دوران سکیورٹی زون میں کوئی شہری نہ ہو۔ یہ بم اتوار کو بعد از دوپہر ناکارہ بنایا جائے گا۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اس بم کو ناکارہ بنانے کا عمل پانچ گھنٹے طویل ہو سکتا ہے۔ اس لیے رات سے قبل کوئی شہری واپس اپنے گھر کو مت لوٹے۔ اس بم کو ناکارہ بنانے کے لیے چھٹی کے دن کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے تاکہ شہر میں گہما گہمی کم ہو۔

خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی پر اتحادی افواج کی جانب سے گرائے گئے بموں میں سے نہ پھٹنے والے درجنوں بم اب بھی ہر سال ملتے رہتے ہیں، جنہیں ناکارہ بنا کر یا کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے۔

کچھ برس قبل جنوبی جرمن شہر میونخ کے مرکز میں اسی طرح کا ایک 250 کلوگرام وزنی بم پھٹنے کے نتیجے میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا تھا جب کہ کئی دکانیں بھی تباہ ہو گئی تھیں۔

DW.COM