1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی، جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے میں افغان مہاجر پر مقدمہ

ایک مبینہ افغان مہاجر کو جرمنی میں میڈیکل کی ایک 19 سالہ طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کے الزامات کے تحت عدالتی مقدمے کا سامنا ہے۔

اس مقتولہ طالبہ کی شناخت ماریہ ایل کے نام سے ظاہر کی گئی ہے۔ جرمنی میں نجی کوائف کے قوانین کے تحت کسی متاثرہ شخص یا ملزم کا پورا نام ظاہر نہیں کیا جاتا۔

مہاجرین میں جرائم کی شرح، میڈیا نے غلط بیانی کی

آسٹریا میں جنسی زیادتی کا واقعہ، افغان مہاجرین کے لیے سزائیں

انیس سالہ جرمن لڑکی کا مشتبہ قاتل نابالغ افغان مہاجر گرفتار

ویڈیو دیکھیے 01:22

اٹلی: پولیس نے آٹھ سو تارکین وطن کو رہائش گاہ سے نکال دیا

اس لڑکی کو جنوب مغربی جرمن شہر فرائی برگ کی جامعہ کے قریب دریا کے کنارے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد پانی میں ڈبو کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

استغاثہ کا خیال ہے کہ اس متاثرہ لڑکی کی نعش کو اس واقعے کے بعد وہیں چھوڑ کر ملزم فرار ہو گیا تھا۔

اس مہاجر کی شناخت حسین کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، جب کہ یہ واقعہ گزشتہ برس دسمبر میں پیش آیا تھا۔ واقعے کے دو ماہ بعد ملزم کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ملزم کی اصل شناخت اور عمر تاحال واضح نہیں ہے، تاہم حکام کو دیے گئے اپنے سابقہ بیانات میں ملزم نے بتایا تھا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے۔ 

اس ملزم پر مقدمہ فرائی برگ کی نابالغوں کی ضلعی عدالت میں چلایا جا رہا ہے، تاہم اسے سزا بالغوں کی جیل میں دی جا سکتی ہے۔

عوامی دلچسپی کے اس مقدمے کی سماعت کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جب کہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے سماعت کے آغاز سے گھنٹوں قبل ہی عدالت کے باہر قطار بنائے دکھائی دی ۔

حسین کی گرفتاری کے بعد ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ اس نے جرمنی پہنچنے سے قبل یونان میں بھی ایک 20 سالہ لڑکی کو تقریباﹰ قتل کر ڈالا تھا۔ اسے اس واقعے پر بھی حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

حسین سن 2015ء میں دیگر مہاجرین کے ساتھ جرمنی میں پہنچا تھا اور بہ طور تنہا نابالغ سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرائی تھی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic