1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: جب تعفن سے پتہ چلے کہ ہمسایہ فوت ہو چکا ہے

جرمنی جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں سینکڑوں ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ ہمسایہ وفات پا جاتا ہے اور کسی کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ساتھ والے گھر میں کوئی شخص کئی دنوں سے مردہ حالت میں پڑا ہوا ہے۔

کوئی تنہا رہنے والا شخص وفات پا جائے تو کتنی دیر بعد ہمسایوں یا اس کے جاننے والوں کو اس کی وفات کا علم ہو جانا چاہیے؟ جرمنی میں منظر عام پر آنے والے ایک حالیہ کیس میں دو برس بعد معلوم ہوا ہے کہ خاتون دو برس پہلے وفات پا گئی تھی اور اس کی لاش اس کے گھر پر ہی پڑی رہی۔

جرمنی میں منظر عام پر آنے والا اس نوعیت کا یہ کوئی پہلا کیس نہیں ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات ہیں، جن میں ہمسایوں کو ہفتوں بعد پتا چلتا ہے کہ ساتھ والے گھر میں رہنے والا شخص وفات پا چکا ہے اور اکثر اس بات کا بھی علم گھر میں پیدا ہو جانے والی بو سے ہوتا ہے۔

جرمنی کے مشہور اخبار ذوڈ ڈوئچے سائٹنگ کے مطابق اس طرح کے واقعات ایک لمحے کے لیے تو آپ پر کپکپی طاری کر دیتے ہیں کہ بڑے شہروں میں کس قدر بے حسی چھا چکی ہے۔

میونخ شہر میں وفات پانے والی اکیانوے سالہ خاتون کا تعلق مڈل کلاس سے تھا اور پولیس کے مطابق وہ دو سال پہلے وفات پا گئی تھی۔ نہ تو کسی نے یہ محسوس کیا کہ ایک برزگ خاتون کہاں گئی ہے اور نہ ہی کسی نے پولیس کو اطلاع دی۔

وفات پانے والی خاتون کا لیٹر باکس خطوط سے بھر چکا تھا اور انشورنس کمپنیوں سے آنے والے کئی خطوط لیٹر باکس کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ ایک ہمسائے کو بڑھتے ہوئے خطوط کی تعداد دیکھ کر شک ہوا تو اس نے پولیس کو فون کیا۔

جرمن اخبار کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمنی میں لوگ ایک دوسرے کا حال پوچھتے رہتے ہیں لیکن ایسا مسلسل دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سے عمر رسیدہ افراد مختلف وجوہات کی بنا پر الگ تھلگ ہو کر زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کا گھر ایک غار کی صورت اختیار کرتا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی کو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ایک شخص ان میں نہیں رہا۔

اس کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ رائنر شمٹس کہتے ہیں، ’’ایک شخص دو سال تک مردہ حالت میں اپنے گھر پر پڑا رہا ہے، یقینی طور پر یہ ایک منفرد کیس ہے۔‘‘ رائنر شمٹس کے مطابق اکثر  ایسے کیسز میں گھر کا چوکیدار یا پھر کویہ ہمسایہ پولیس کا اطلاع فراہم کر دیتا ہے۔

ان کے مطابق یہ ایک منفرد کیس ہے، عام طور پر ایسے کیسز میں چند ہفتوں یا ایک دو مہینے بعد ہی پتہ چل جاتا ہے۔ اس حوالے سے میونخ شہر کے حکام کے پاس کوئی واضح اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن رائنر شمٹس کے اندازوں کے مطابق اس شہر میں سالانہ تقریبا دس ایسے کیس ضرور سامنے آتے ہیں۔