1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: تنہا مہاجر بچوں کے لیے پہلا رہائشی مرکز قائم

جرمنی نے تنہا سفر کر کے پہنچنے والے کم عمر تارکینِ وطن کے لیے اپنی طرز کا پہلا رہائشی مرکز  قائم کر دیا گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ہر ماہ اوسطاﹰ ایک سو تنہا مہاجر بچے برلن پہنچتے ہیں۔

Deutschland unbegleitete minderjährige Ausländer in Karlsruhe (picture-alliance/dpa/U. Deck)

پہلی بار چودہ سے اٹھارہ سال تک کے ان کم سن پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی جگہ مختص کی جائے گی

 برلن سے شائع ہونے والے اخبار ’ٹاگس اشپیگل‘ کے مطابق ’چیک اِن‘  کے نام سے تنہا مہاجر بچوں کے لیے قائم کیے جانے والے اس مرکز کا افتتاح آج بروز پیر بتاریخ تیرہ مارچ کیا جائے گا۔ اس طرح پہلی بار چودہ سے اٹھارہ سال تک کے ان کم سن پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی جگہ مختص کی جائے گی۔

 اطلاعات کے مطابق جرمن دارالحکومت برلن میں ہر مہینے اکیلے سفر کر کے آنے والے ایسے مہاجر بچوں کی اوسط تعداد 100 کے قریب ہے۔ ’یوتھ سینیٹ ایڈمنسٹریشن‘ کے دفتر میں سرکاری طور پر اندراج ہونے کے بعد اب تک ایسے بچوں کو مختلف ہوسٹلوں میں بھیجا جا چکا ہے۔

 ان نا بالغ افراد کی سماجی دیکھ بھال کو خصوصی طور پر  ’ناموزوں‘ تصور کیا گیا ہے۔ تاہم ’چیک ان‘ میں داخلے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کم عمر تارکینِ وطن کو سماجی کارکنوں اور اساتذہ کی بہتر توجہ حاصل ہو سکے گی۔ اطلاعات کے مطابق چودہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے یہ نا بالغ افراد کسی دوسری رہائش گاہ میں منتقلی تک یہاں دو ہفتے قیام کریں گے۔

 ابتدائی طور پر  ’چیک ان‘ نامی ہوسٹل میں محض دس افراد کے لیے جگہ ہے۔ تاہم عمومی طور پر یہ گنجائش پچاس افراد کے لیے ہونی چاہیے۔

DW.COM