1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی: ترک صدر کی حمایت میں ریلی، ہزاروں شریک

جرمنی میں رہنے والی ترک کمیونٹی کے ہزاروں افراد نے کولون شہر میں ترک صدر کی حمایت میں ایک ریلی کا اہتمام کیا۔ ترک صدر نے اس ریلی سے خطاب بھی کرنا تھا لیکن انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی گئی۔

جرمنی کے شہر کولون میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حمایت میں نکالی جانے والی آج کی اس ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ ریلی کے شرکاء نے ترک صدر کے حق میں نعرے لگائے جبکہ انہوں نے جمہوریت کے حق اور بغاوت کی مخالفت میں پلے کارڈز بھی اٹھائے رکھے۔

ترکی میں کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کے وزیر عاکف جگاتے نے بھی خصوصی طور پر اس ریلی میں شرکت کی۔ ان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم آج اس وجہ سے یہاں ہیں کیوں کہ جرمنی میں رہنے والے ہمارے ہم وطن جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں اور فوجی بغاوت کے مخالف ہیں۔‘‘

اتوار منعقدہ اس ریلی سے ترک صدر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے خطاب سے کچھ دیر ہی پہلے جرمنی کی ایک اعلیٰ عدالت نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس بارے میں ترکی کے وزیر برائے یورپی امور عمر چیلیک نے کہا ہے کہ کولون ریلی میں صدر رجب طیب ایردوآن کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت نہ دینا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے آج اپنے ایک ٹوئٹ میں جرمنی کی آئینی عدالت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایردوآن کو تقریر کی اجازت نہ دینا آزادی اظہار پر ایک قدغن کے مترادف ہے۔

دوسری جانب ترک صدر ایردوآن نے بھی مغربی ممالک کے رویے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کو اپنے ساتھی اور نیٹو رکن ملک کی بجائے بغاوت کرنے والوں کی قسمت کی زیادہ فکر ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ ناکام بغاوت کے بعد سے کسی یورپی لیڈر ان کے ملک کا دورہ نہیں کیا۔

قبل ازیں جمعرات کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کو مناسب ردعمل دکھانا چاہیے اور یہ کہ وہ ترکی میں ہونے والی پیش رفت کو فکر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔

جرمنی میں تیس لاکھ ترک نژاد شہری مقیم ہیں اور ترکی کے حالیہ انتخابات کے دوران ان میں سے ساٹھ فیصد نے ترکی کی برسراقتدار جماعت اے کے پی کو ووٹ دیے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس ریلی میں تقریباﹰ تیس ہزار افراد شریک ہوئے جبکہ اس دوران ناکام بغاوت کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

اس موقع پر سکیورٹی کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے تین ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ جرمن حکام کو خدشہ تھا کہ اس ریلی میں کوئی پرتشدد واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ ماضی میں جرمن سر زمین پر قوم پرست ترکوں اور علیحدگی پسند کردوں کے حامیوں کے مابین لڑائی جھگڑے ہوتے رہے ہیں۔