1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: ترک شہریوں کی سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافہ

جرمنی میں ترک شہریوں کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواستوں میں بہت زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق ترکی میں آباد کرد برادری سے ہے، جو صدر رجب طیب ایردوآن کے اقدامات کی وجہ سے جرمنی  آ رہے ہیں۔

وفاقی پارلیمان میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں جرمن حکومت نے بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ترک شہریوں کی جانب سے دی جانے والی سیاسی پناہ کی درخواستوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ فُنکے میڈیا گروپ کے ایک اخبار کے مطابق ترک صدر رجیب طیب ایردوآن کے متنازعہ اقدامات کی وجہ سے ایک کثیر تعداد میں ترک شہری جرمنی کا رخ کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنوری سے نومبر تک ترک شہریوں کی جانب سے دی جانے والی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد 5166 بنتی ہے اور ان میں سے اسی فیصد کرد شہری ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق صرف نومبر میں 702 ترک شہریوں نے سیاسی  پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں جبکہ جنوری 2016ء میں یہ تعداد 119 تھی۔

 تاہم جرمن حکومت جولائی میں ترک میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت اور سیاسی پناہ کی متلاشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مابین کوئی تعلق جوڑنا نہیں چاہتی اور نا ہی اس بارے میں کوئی قیاس آرائی کرنا چاہتی ہے۔

اس صورت حال میں بائیں بازو کی جماعت ڈی لنکے نے جرمن حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ اس جماعت کا الزام ہے کہ برلن حکومت کو چاہیے کہ ترکی میں موجود پناہ گزینوں کے حالات پر توجہ دے۔ ڈی لنکے کی سیاست دان اولا جیلپکے کہتی ہیں: ’’2014ء کے بعد جرمنی میں سیاسی پناہ کی تلاش میں آنے والے ترک شہریوں کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے‘‘۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ترکی ایک ایسی ریاست یا کوئی ایسی جگہ بھی نہیں ہے جہاں مہاجرین خود کو محفوظ تصور کریں۔ اس موقع پر انہوں نے برلن حکومت سے مطالبہ کیا کہ رجب طیب ایردوآن کی حکومت کو تمام قسم کے اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے۔