1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: تارکین وطن کی ’فیملی ری یونین‘ میں اضافہ

جرمنی میں مقیم غیر ملکیوں کی جانب سے بیرون ملک رہائش پذیر اپنے اہل خانہ کو جرمنی بلانے کے عمل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ جرمن حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

جرمن اخبار ’دی وَیلٹ‘ کے مطابق 2016ء کی پہلی سہ ماہی میں’فیملی ری یونین‘ یا خاندانوں کو ملانے کے لیے ستر ہزار ویزے جاری کیے گئے۔ 2015ء کے دوران ایسے کُل پچاس ہزار جبکہ 2014ء میں صرف تیس ہزار ویزے جاری کیے گئے تھے۔ اس اخبار نے یہ رپورٹ جرمن وزارت خارجہ سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے مرتب کی۔

اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی جرمن حکومت نے گزشتہ برس مارچ میں ایسے تارکین وطن کے اہل خانہ کی جرمنی آمد کے عمل کو بھی دو سال کے لیے معطل کر دیا تھا، جن کو جرمنی میں ثانوی درجے کے تحفظ کے حقدار تسلیم کیا جا چکا ہے۔ یہ ثانوی تحفظ دریں اثناء زیادہ تر خانہ جنگی کی وجہ سے ترک وطن کرنے والے شامی شہریوں کو دیا گیا ہے۔

جرمنی میں مقیم  تارکین وطن  کے بیرون ملک رہنے والے اہل خانہ کی نقل مکانی کے بعد مستقل رہائش کے لیے جرمنی آمد کے عمل میں اضافے پر حکومتی اتحاد میں شامل جماعت کرسچن سوشل یونین کچھ فکر مند دکھائی دیتی ہے۔ جرمن پارلیمان میں اس جماعت کے نائب پارلیمانی سربراہ یوہانس سنگہامر نے ’دی وَیلٹ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’جرمنی کو تیار رہنا چاہیے کہ جلد ہی سیاسی پناہ کے طریقہ کار کے بجائے زیادہ لوگ اسی طرح کے ویزے لے کر آئیں گے۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے حکومت سے اس طریقہ کار کو زیادہ سخت بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے بقول حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرہ ممالک میں محفوظ علاقے قائم کرے، ’’جن کی حفاظت مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے ذمے ہو اور ایسے مراکز میں یہ خاندان ایک ساتھ زندگی گزار سکیں۔‘‘