1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: تارکین وطن کو کرائے پر گھر کیوں نہیں ملتے؟

جرمنی میں کرائے پر رہائش گاہ کا حصول ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر گھر ڈھونڈنے والا کوئی تارک وطن یا غیر ملکی پس منظر رکھنے والا شخص ہو، پھر تو رہائش گاہ کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔

جرمنی کے ایک علاقائی عوامی نشریاتی ادارے ’بی آر‘ اور کثیرالاشاعتی جریدے ’اشپیگل‘ سے تعلق رکھنے والے کچھ صحافیوں نے مل کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا جرمنی میں مکان کرائے پر دیتے وقت کسی خاص پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے یا نہیں۔

آسٹریا: مالی امداد ملنے کے باوجود مہاجرین جانے کو تیار نہیں

کس یورپی ملک میں کتنے مہاجرین پہنچے، کتنوں کو پناہ ملی؟

یہ جاننے کے لیے ان صحافیوں نے جرمنی بھر میں مکان کرائے پر دینے کے اشتہارات کی نشاندہی کی اور پھر ان سے رابطہ کیا۔ ان اشتہارات میں مکان کرائے پر دینے والے ادارے بھی تھے اور پرائیویٹ مکان مالکان بھی۔

ویڈیو دیکھیے 02:19

ان صحافیوں نے خودکار طریقے سے بیس ہزار سے زائد ای میلز بھیجیں۔ ان سبھی پیغامات کے مندرجات قریب ایک جیسے ہی تھے، جن میں اشتہار دینے والوں سے درخواست کی گئی تھی کہ ہم مکان کرائے پر لینا چاہتے ہیں اور حسب معمول اس سلسلے میں مکان دیکھنے کے لیے وقت مانگا گیا تھا۔

اس رپورٹ پر کام کرنے والے صحافیوں نے یہ پیغامات مختلف ناموں سے بھیجے اور اس مقصد کے لیے انہوں جرمن ناموں کے علاوہ ایسے ناموں کا انتخاب بھی کیا جو عام طور پر ترک، عرب اور پولینڈ سے تعلق رکھنے والے افراد کے ہوتے ہیں۔ ان بیس ہزار پیغامات میں سے آٹھ ہزار کے جواب آئے۔

ڈیٹا بیس ماہرین نے ان کا جائزہ لیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ عرب یا ترک نام سے بھیجی گئی ای میلوں کا جواب انکار کی صورت میں ملنے کا تناسب باقی ناموں کی نسبت کہیں زیادہ تھا۔ یورپی ناموں کے مقابلے میں بہت کم عرب یا ترک نام سے بھیجی گی ای میلز کے جواب میں مکان دیکھنے کی دعوت دی۔

ان اعداد و شمار کا مزید جائزہ لینے کے بعد یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مکان کرائے پر دینے والی کمپنیوں کی نسبت نجی مکان مالکان کے جوابات میں امتیازی سلوک روا رکھنے کا پہلو زیادہ نمایاں تھا۔

ان صحافیوں نے اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عام طور پر مکان مالکان اشتہار جاری کرنے کے بعد صرف چند منتخب شدہ لوگوں کو ہی مکان دیکھنے کے لیے بلاتے ہیں جب کہ کمپنیاں زیادہ تعداد میں لوگوں کو مکان دیکھنے کے لیے بلاتی ہیں۔

اگر شہروں کا ذکر کیا جائے تو شماریاتی اعتبار سے سب سے بری صورت حال میونخ کی رہی۔ میونخ میں کسی غیر ملکی کو مکان ملنے کے امکانات جرمن شہریوں کی نسبت نصف ہیں۔ فرینکفرٹ میں مکان تلاش کرنے والوں کی تعداد عام طور پر زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث تارکین وطن کو مکان ملنے کے امکانات بھی کم ہیں۔ دیگر شہروں کی نسبت لائپزگ میں جرمنوں اور غیرملکیوں کو مکان ملنے کے امکانات قریب قریب برابر ہیں۔

جرمنی کے وفاقی وزیر انصاف ہائیکو ماس نے اس تحقیقی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی شخص کو مکان دیتے وقت صرف اس کا نام دیکھ کر امتیاز برتنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔‘‘ اشپیگل سے کی گئی گفتگو میں ماس کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو صرف اس کے نام یا آبائی وطن کی بنیاد پر مکان دینے سے انکار کیا جائے تو ایسا امتیازی رویہ قانون کے خلاف ہے۔

کس یورپی ملک میں زیادہ پاکستانی مہاجرین کو پناہ ملی؟

’مہاجرین کے اہل خانہ سے متعلق جرمن قوانین غیر آئینی ہیں‘

ویڈیو دیکھیے 05:12

DW.COM