1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی بھر میں اس پاکستانی کی تلاش

جرمن پولیس نے ایک مفرور پاکستانی کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں جبکہ جرمنی کے کئی بڑے اخبارات اور زیادہ تر پولیس اسٹیشنوں میں اس ملزم کی تصویر کے ساتھ اس کی گرفتاری میں مدد کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

گزشتہ جمعے کے روز جرمن پولیس کو ڈریسڈن شہر میں ایک اکتالیس سالہ خاتون کی لاش ملی تھی، جس کے بعد مشتبہ ملزم کی تلاش کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ روز پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شاہجہان بٹ کی تصویر شائع کی۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ انتیس سالہ بٹ نے مبینہ طور پر اپنی جرمن شریک حیات کو قتل کیا۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

جرمن اخبار ’زَیکسیشے سائٹنگ‘ کے مطابق یہ مفرور پاکستانی شہری گزشتہ برس دسمبر میں ایک مہاجر کی حیثیت سے جرمنی آیا تھا۔  جرمن اخبار بِلڈ کے مطابق مقتول خاتون کی لاش کے پوسٹ مارٹم سے پتہ چلا تھا کہ اسے تشدد کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ خاتون، جو ایک بیس سالہ لڑکے کی ماں بھی تھی، کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ ڈریسڈن کی مقامی حکومت اور مقتولہ کے ہمسایوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق لاش ملنے سے دو ہفتے پہلے اس جوڑے کے گھر میں شدید لڑائی ہوئی تھی، جس کی آوازیں ہمسایوں نے بھی سنی تھیں۔

تاہم پولیس کی طرف سے ابھی ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی، جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ اس خاتون کی ہلاکت کن حالات میں ہوئی اور اسے کیوں قتل کیا گیا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر ان تمام مقامات پر چھاپے مارے ہیں، جہاں مشتبہ ملزم موجود ہو سکتا تھا۔ پھر پولیس کو ملزم کے بارے میں مزید کوئی بھی معلومات نہ ملنے کے بعد ملزم بٹ کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ جس خاتون کا قتل کیا گیا، وہ ویتنامی نژاد تھی اور مہاجرین مخالف سیاسی جماعتیں اس کیس کو اپنے حق میں استعمال کر رہی ہیں۔

یونان میں چند پیسوں کی خاطر جسم بیچتے پاکستانی مہاجر بچے

DW.COM