1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: بڑھاپے میں غربت کے بڑھتے ہوئے خطرات

جرمنی میں پینشن سے متعلقہ امور کے ماہرین کی تیار کردہ ایک نئی رپورٹ ان دنوں وفاقی حکومت اور سماجی حلقوں کی سطح پر بڑی بھر پور بحث کی وجہ بنی ہوئی ہے۔

default

کچلے ہوئے آلو اور ابلی ہوئی گاجریں۔ ہر روز ایک ہی قسم کا کھانا۔ اور وہ بھی مہینے کے آخری ہفتے میں کیونکہ تب تک پینشن کی ماہانہ رقم بڑی احتیاط سے خرچ کیے جانے کے باوجود ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ جرمنی کی بیاٹے گریبرٹ نامی ایک ایسی بزرگ خاتون کی کہانی ہے، جو اکیلی رہتی ہیں اور جن کو ملنے والی پینشن کی ماہانہ رقم ان کے مہینے بھر کے کم سے کم اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتی۔

اس خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے بچپن میں جب ان کے گھر والوں کے پاس کھانے کو کافی خوراک نہیں ہوتی تھی تو گھر کے چند افراد جنگل میں چلے جایا کرتے تھے۔ اس لیے کہ وہاں سے لائی گئی کھمبیاں اور جنگلی بیر پکا کر کھانے کے طور پر کھائے جا سکیں۔ تب دوسری عالمی جنگ یا اس کے فوری بعد کا زمانہ تھا۔

آج کی جرمن ریاست کے حالات مختلف ہیں۔ لیکن 72 سالہ بیاٹے گریبرٹ کہتی ہیں کہ وہ اسی طرح بچپن گزار کر پلی بڑھیں اور اب مالیاتی حوالے سے ان کے حالات ماضی ہی کی طرح کے ہیں۔ بیاٹے کہتی ہیں کہ انہیں جو پینشن ملتی ہے، اس میں سے دو کمروں پر مشتمل گھر کا کرایہ دینے اور پھر اپنی ادویات کے لیے قیمت کی لازمی جزوی ادائیگی کرنے کے بعد ان کے پاس جو رقم بچتی ہے، وہ محض دو یورو روزانہ بنتی ہے۔ وہ پوچھتی ہیں کہ اتنی کم رقم مین کوئی انسان آج کے جرمن معاشرے میں کتنی آسودہ اور معیادی زندگی کزار سکتا ہے؟

BDT Ecuador, 116-Jährige älteste Frau der Welt

جرمنی میں پینشن یافتہ جرمن باشندوں میں سے قریب دس فیصد پہلے ہی غربت کا شکار ہیں

جرمنی میں اس وقت کُل 82 ملین سے زائد کی مجموعی آبادی میں پینشن یافتہ شہریوں کی تعداد 21 ملین کے قریب بنتی ہے۔ یعنی ملکی آبادی کے ایک چوتھائی سے بھی زائد۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان پینشن یافتہ جرمن باشندوں میں سے قریب 10 فیصد پہلے ہی غربت کا شکار ہیں۔

جرمنی میں عوامی سطح پر ضرورت مند، بے روزگار، بے گھر یا بہت غریب شہریوں کو ریلوے اسٹیشنوں جیسے مقامات پر کھانا مہیا کرنے والے خیراتی ادارے ’ریلوے اسٹیشن مشن‘ کہلاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک فلاحی مشن بڑی کامیابی سے برلن میں بھی کام کر رہا ہے۔ اس مشن کے ایک سرکردہ رکن ڈِیٹر فُوہل کہتے ہیں کہ جرمنی میں وفاقی سطح پر گزشتہ برسوں کے دوران ایسے عوامی فلاحی منصوبوں کی تعداد دوگنا ہو کر دو ہزار ہو چکی ہے، جو عرف عام میں ’پبلک سپلائی کچن‘ کہلاتے ہیں۔

ِڈیٹرفوہل کہتے ہیں،’’ایسی زیادہ سے زیادہ بیوہ خواتین اور پینشن یافتہ افراد، جو ماضی میں مالی حوالے سے کسی نہ کسی طرح اپنا گزارہ کر ہی لیتے تھے، اب انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے گھر کا کرایہ کہاں سے دیں گے یا مہینے کے آخر میں کھائیں گے کہاں سے۔‘‘

شمالی جرمن شہر ہیمبرگ میں اپنی ایک کارنر شاپ چلانے والی ایک جرمن خاتون نے اپنا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں اپنی دکان کے قریب غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملنے لگے ہیں۔

اس خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی دکان کے آس پاس انہیں بظاہر مناسب کپڑے پہنے ہوئے ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں، جو کوڑے کے ڈبوں میں سے کھانے پینے کی ایسی اشیاء ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، جو انہیں بھوک سے نجات دلا سکیں۔ اس خاتون کے بقول،’’ جب ایسے لوگوں کو کچھ کھانے کو مل جاتا ہے تو وہ یا تو کوڑے کے طور پر پھینکی گئی یہ خوراک وہیں کھا لیتے ہیں یا اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ واقعی بڑی المناک بات ہے۔‘‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس