1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی، بنیادی سیاسی ڈھانچہ اور  آئندہ پارلیمانی انتخابات

جرمنی میں 24 ستمبر کو پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ یہ ملک اپنے تاریخی پس منظر کے باعث ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو کی کشور مصطفی نے بنیادی جرمن سیاسی ڈھانچے کے اہم نکات اس مضمون میں بیان کیے ہیں۔

 جرمنی میں عام انتخابات ایک ایسے وقت پر منعقد ہو رہے ہیں جب موجودہ جرمن حکومت کو دیگر چیلنجز کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے بحران جیسے بڑے چیلنج کا سامنا بھی ہے۔ جرمنی عالمی سطح پر نہ صرف تاریخی اعتبار سے بلکہ موجودہ دور میں بھی دنیا کے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یورپ کے قلب میں واقع اس وفاقی پارلیمانی ریاست کو یورپ کی اقتصادی شہ رگ کہنا غلط نہ ہو گا۔ ساتھ ہی لگ بھگ بیاسی ملین کی آبادی کے ساتھ جرمنی یورپی یونین کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک بھی ہے اور دنیا کی چوتھی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بھی۔

 جرمنی میں Legislative Power یہاں کی وفاقی پارلیمان کے پاس ہے، جسے جرمن زبان میں Bundestag کہتے ہیں۔  Bundesrat صوبوں کی Representative Body ہے، جو پارلیمانی ایوان بالا ہے۔ وفاقی جرمن ریاست کُل 16 صوبوں پر مشتمل ہے اور ہر صوبے کی اپنی حکومت اور اپنی پارلیمان بھی ہے۔ صوبوں کو کئی شعبوں میں پالیسی سازی کے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ جرمنی میں ایک کثیرالجماعتی سیاسی نظام پایا جاتا ہے۔ جرمن Judiciary یعنی عدلیہ executive اور legislature سے قطعی آزاد ہے، اور ریاست کا ایک خود مختار ستون ہے۔ انیس سو انچاس سے ہی جرمنی کا موجودہ آئین، جسے Grundgesetz کہتے ہیں، موجود ہے اور اسی پر موجودہ جرمنی کا سیاسی، سماجی اور اقتصادی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہے۔    

 

Deutschland Wahlkampf CDU- Merkel in Bitterfeld (DW/K.-A. Scholz)

موجودہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اپنی تیسری مدت مکمل کر کے اس بار چانسلرشپ کی چوتھی مدت کے لیے الیکشن لڑ رہی ہیں

اگر  وفاقی جمہوریہ جرمنی میں سیاسی جماعتوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں انیس سو انچاس سے ہی سیاست پر کرسچین ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی کا غلبہ رہا ہے۔ سی ڈی یو کی Sister پارٹی کرسچین سوشل یونین سی ایس یو ہے۔ جرمنی میں اب تک زیادہ تر مخلوط حکومتیں برسر اقتدار رہی ہیں۔

گزشتہ چند دہائیوں کو ہی دیکھ لیجیے۔ انیس سو سڑسٹھ سے انیس سو انہتر تک، 2005 ء سے 2009 ء تک اور 2013 ء سے تاحال جرمن حکومت ’گرینڈ کویلیشن‘ یا دو مرکزی سیاسی جماعتوں کرسچین ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی پر مشتمل مخلوط حکومت ہی بنتی رہی ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے لیے اگر ان میں سے کسی ایک پارٹی کو ضرورت پڑے تو وہ کسی چھوٹی سیاسی جماعت کو بھی ساتھ ملا لیتی ہے۔

رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں موجودہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل، جو کہ اپنے تیسری مدت مکمل کر کے اس بار چانسلرشپ کی چوتھی مدت کے لیے الیکشن لڑ رہی ہیں، ان کی جماعت سی ڈی یو اور اس کی سسٹر پارٹی سی ایس یو کے ساتھ سخت مقابلہ موجودہ اپوزیشن جماعت سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی کا ہے۔

اس کے علاوہ چند چھوٹی سیاسی جماعتوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران عوامی مقبولیت حاصل کی۔ اُن میں فری ڈیمو کریٹک پارٹی ایف پی ڈی، لیفٹ پارٹی دی لِنکے اور ماحول پسندوں کی گرین پارٹی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ایک اور سیاسی جماعت بھی، جو 2013 ء میں چانسلر میرکل کی مہاجرین سے متعلق پالیسی کے رد عمل میں وجود میں آئی، بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ ہے اے ایف ڈی، ’الٹرنیٹیو فیُور ڈوئچ لینڈ‘ یا جرمنی کے لیے متبادل ۔

24 ستمبر 2017 ء کو ہونے والے وفاقی پارلمیانی انتخابات میں چانسلر کے عہدے کے لیے انگیلا میرکل اور سوشل ڈیموکریٹ رہنما مارٹن شُلس کے مابین مقابلہ کافی سخت رہنے کے امکانات ہیں۔

 

DW.COM