1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی بغاوت کے مرکزی مشتبہ شخص کو ملک بدر کرے، ترکی

ترک حکومت نے جرمنی سے باقاعدہ طور پر اس مشتبہ شخص کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے، جس کا گزشتہ برس ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت میں مرکزی کردار تھا۔ ترکی کے مطابق ان کو مطلوب مشتبہ شخص جرمنی میں دیکھا گیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ مولود چاووش ‌اوغلو نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ انقرہ حکومت نے جرمن حکومت کو باقاعدہ طور پر درخواست دی ہے کہ مفرور پروفیسر عادل اوکسوز کو ان کے حوالے کیا جائے۔

ترکی ٹیلی وژن ٹی آر ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جرمنی کو یہ درخواست ایسی اطلاعات کے ملنے کے بعد دی گئی ہے، جن کے مطابق عادل جرمنی میں دیکھا گیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا، ’’ہم نے جرمنی سے درخواست کی ہے کہ اس شخص کو تلاش کیا جائے اور اسے گرفتار کرتے ہوئے ہمارے حوالے کیا جائے۔‘‘     

عادل اوکسوز دینیات کے پروفیسر ہیں اور امریکا میں جلاوطن ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے پیروکار ہیں۔ انقرہ حکومت کے مطابق گزشتہ برس کی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے ان کا مرکزی کردار تھا۔

مغربی اقوام ’دہشت گردوں‘ کا ساتھ دے رہی ہیں، ترک صدر

ترک میڈیا کے مطابق ترکی کو مطلوب عادل اوکسوز کو جرمن شہر فرینکفرٹ اور اولم میں دیکھا گیا ہے جبکہ انہیں جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ نے عارضی رہائشی پرمٹ بھی فراہم کر رکھا ہے۔ ترک حکام کے مطابق اوکسوز ایئر فورس میں ایک ’سویلین امام‘ تھا اور ایئرفورس نے ہی ترک پارلیمان پر بمباری کی تھی۔ یاد رہے کہ ترکی کی ناکام فوجی بغاوت میں فضائیہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اوکسوز کو بغاوت کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن فتح اللہ گولن تحریک سے ہی وابستہ ایک جج نے انہیں دو دن بعد رہا کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے اوکسوز ترکی سے فرار ہو گئے تھے اور تب سے ترکی نے انہیں ’مطلوب ترین افراد‘ کی لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔

ترک حکام نے ایک ایسی ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں عادل اوکسوز اور ان کے مبینہ ساتھی تاجر کمال باتماز کو ناکام بغاوت سے دو دن پہلے استنبول ایئرپورٹ پر اترتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ دونوں افراد امریکا میں مقیم جلاوطن مذہبی رہنما فتح اللہ گولن سے ملاقات کر کے واپس پہنچے تھے۔ فتح اللہ گولن بغاوت میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

DW.COM