1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی بدر افغان مہاجرین کو وطن لوٹنے پر کیا مواقع ملیں گے؟

بین الاقوامی تعاون کی جرمن تنظیم کے سلامتی کے مشیر فلپ شوئیر کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں استحکام کی صورتِ حال اب بھی مستحکم نہیں ہے تاہم جرمنی بدر افغان مہاجرین کو وطن واپسی پر بہتر مواقع ملنےکے مضبوط امکانات ہیں۔

Afghanistan Abgeschobene Afghanen erreichen Kabul (picture-alliance/dpa/C. Röhrs)

شوئیبر کے مطابق ترکِ وطن کرنے والوں کی بڑی تعداد نوجوان مردوں پر مشتمل ہے جس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور بد امنی ہے

افغانستان میں جاری جنگ کی گرفت ملک میں اب بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ اسی تناظر میں ڈی ڈبلیو نے بین الاقوامی تعاون کی تنظیم جی آئی زیڈ کے سکیورٹی ایڈوائزر فلپ شوئیر سے ایک انٹرویو میں سوال کیا  کہ اب جبکہ جرمنی میں افغان پناہ گزینوں کو اُن کے ملک واپس بھیجنے پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا، تو زمینی حقائق کیا ہیں اور افغان تارکینِ وطن کو کن شرائط پر واپس بھیجا جا رہا ہے؟

شوئیر کی رائے میں افغانستان اب بھی مشکل اور نا گفتہ بہ حالات سے دو چار ہے اور  تنازعات کے نتیجے میں مایوسی اور بد امنی کا شکار ہے۔ فلپ شوئیر کے مطابق افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی موجودگی نے پائیدار استحکام کو پنپنے نہیں دیا جس کے نتیجے میں وہاں جنگجو  اور بے ضابطہ معیشت فروغ پا رہی ہے۔

 شوئیر نے مزید کہا، ’’ صدر اشرف غنی کے اپنے حکومتی اتحاد میں اختلافات موجود ہیں جو حل طلب ہیں۔ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اب تک ناکام رہے ہیں اور ہر سال طالبان کی جانب سے موسمِ گرما میں کی جانے والی پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملکی معاشیات میں گراوٹ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ ایک طرف ایران اور پاکستان سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر ملک واپسی اور دوسری جانب افغانستان کے اندر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بڑی تعداد سے وہاں کی سماجی واقتصادی صورتِ حال پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔‘‘

Abschiebung abgelehnter Asylbewerber nach Afghanistan (Reuters/R. Orlowski)

فلپ شوئیر کا کہنا ہے کہ مشکل اور کشیدہ صورتِ حال کے باوجود واپس لوٹنے والے تارکینِ وطن کے لیے اُن کے ملک میں مواقع موجود ہیں

شوئیر کے مطابق وہ تمام افغان افراد ’پناہ گزین‘ کے زمرے میں آتے ہیں جو سوویت تسلط سے لے کر اس کے بعد بھی وہاں ہونے والی خانہ جنگی کے باعث ہزاروں کی تعداد میں ملک چھوڑ کر پاکستان، ایران اور مغرب کی طرف ہجرت کر گئے۔ ان میں خواتین، بچے، سابق ملیشیا گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔

سکیورٹی مشیر کا کہنا تھا اب ترکِ وطن کرنے والوں کی بڑی تعداد نوجوان مردوں پر مشتمل ہے جس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور بد امنی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ جرمنی سے واپس بھیجے جانے والے افغان مہاجرین کو وطن واپسی پر کیا مواقع ملنے کا امکان ہے، شوئیر نے کہا، ’’ مشکل اور کشیدہ صورتِ حال کے باوجود واپس لوٹنے والے تارکینِ وطن کے لیے اُن کے ملک میں مواقع موجود ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بیرو کریسی اور وزارتوں کو مستحکم کیا ہے۔ اس کے علاوہ قومی اداروں اور عالمی ڈونرز کی جانب سے ایسے پیشہ ورانہ پروگرام شروع کیے گئے ہیں جو  مالی طور پر مستحکم ہونے اور اپنی قابلیت بڑھانے کے موقع فراہم کر تے ہیں۔‘‘

شوئیر کا کہنا تھا کہ ملک میں مقامی تجارت اور برآمدات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے اور معیشت کی مد میں سرمایہ کاری بھی کی جارہی ہے تاہم یہ امکانات اسی صورت میں برقرار رہ سکتے ہیں جب افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کا سد ِ باب کیا جائے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic