1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: بارڈر کنٹرول کے لیے مزید پولیس اہلکاروں کی ضرورت

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر ملکی سرحدوں پر شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی مدت میں توسیع کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں بارڈر کنٹرول کرنے کے لیے مزید نفری کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے ای پی ڈی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ جرمن پولیس یونین کے اندازوں کے مطابق بارڈر کنٹرول کے لیے پولیس کو مزید دو ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہے۔

جرمنی کی وفاقی پولیس یونین کے نائب صدر یورگ راڈِک کا مقامی اخبار سے کی گئی اپنی ایک گفت گو میں کہنا تھا، ’’اگر تارکین وطن کی آمد اسی رفتار سے جاری رہی تو ہمیں کم از کم مزید دو ہزار اہلکاروں کی ضرورت پڑے گی۔‘‘

فی الوقت تقریباﹰ دو ہزار اہلکار ہی جرمن سرحدوں پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال پر معمور ہیں۔ پولیس یونین کے مطابق مستقبل میں انہیں دگنے اہلکاروں کی ضرورت پڑے گی۔

پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافے کے مطالبے پر اصرار کرتے ہوئے راڈِک کا مزید کہنا تھا کہ اضافے کے بغیر ’سرحدوں پر جامع کنٹرول یقینی بنانا ناممکن ہو گا۔‘

جرمنی کی وفاقی پارلیمان نے تارکین وطن کے موجودہ بحران کے دوران بارڈر کنٹرول کے لیے 2016ء کے بجٹ میں صرف تین سو مزید پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی منظور کر رکھی ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی بجٹ میں دو سو چالیس سول اہلکاروں کی بھرتی کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔

وفاقی پولیس یونین کے نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ نفری کے ساتھ پولیس روزانہ کی بنیاد پر محض ایک ہزار تارکین وطن کو نمٹانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جرمن حدود میں داخل ہونے کے بعد تارکین وطن کی انگلیوں کے نشانات اور دیگر بائیومیٹرک معلومات جمع کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔

جرمنی کی وزارت داخلہ کا دعویٰ ہے کہ موجودہ افرادی قوت کے ساتھ پولیس روزانہ 3500 تارکین وطن سے متعلق قانونی امور نمٹا سکتی ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی ذمہ داریوں میں صرف اتنا شامل ہے کہ وہ تارکین وطن کو شمار کر نے اور بنیادی معلومات حاصل کر نے کے بعد انہیں وفاقی دفتر برائے تارکین وطن و مہاجرین کے پاس بھیج دے تاکہ وہ مہاجرین کی رجسٹریشن کر سکے۔

DW.COM