جرمنی اپنی ’تاریخی‘ غلطی کا ازالہ کرے، ترک وزیر اعظم کا مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 03.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی اپنی ’تاریخی‘ غلطی کا ازالہ کرے، ترک وزیر اعظم کا مطالبہ

ترک وزیر اعظم یلدرم کے مطابق قریب سو برس قبل سلطنت عثمانیہ کے دور میں ترکوں کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل کا جرمن پارلیمان کی طرف سے باقاعدہ طور پر ’نسل کشی‘ قرار دیا جانا جرمنی کی ایک ’تاریخی‘ غلطی ہے۔

Türkei Binali Yildirim stellt neues Kabinett vor

ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم

ترک دارالحکومت انقرہ سے جمعہ تین جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم بن علی یلدرم نے آج کہا کہ برلن میں جرمن پارلیمان نے اس حوالے سے متفقہ رائے سے جمعرات کو جو علامتی قرارداد منظور کی، وہ جرمنی کی ایک ’تاریخی‘ غلطی ہے۔

ساتھ ہی یلدرم نے یہ بھی کہا کہ انقرہ حکومت اس جرمن قرارداد کے ردعمل میں اپنی طرف سے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اقدامات کیا ہو سکتے ہیں۔ بن علی یلدرم نے مزید کہا کہ جرمنی کو اپنی اس ’تاریخی غلطی‘ کا تدارک کرنا چاہیے تاہم ان کی رائے میں کسی کو یہ توقع بھی نہیں رکھنا چاہیے کہ 1915ء میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام سے متعلق اس جرمن قرارداد کی منظوری سے ترکی اور جرمنی کے باہمی روابط ’پوری طرح خراب‘ ہو جائیں گے۔

جمعرات دو جون کے روز برلن میں بنڈس ٹاگ کہلانے والے وفاقی جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں میں اس قرارداد کی منظوری کے بعد انقرہ حکومت برلن میں تعینات اپنے سفیر کو فوری طور پر مشاورت کے لیے پہلے ہی واپس بلا چکی ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ ترک وزیر اعظم یلدرم نے اپنے سرکاری دورہٴ آذربائیجان سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمینیا پر شدید تنقید بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات آرمینیا کی تاریخ کا حصہ ہے کہ یہ ملک ’انتشار کے ذریعے غلط کاموں میں ملوث‘ رہا ہے۔

Völkermord an den Armeniern

مؤرخین کے مطابق پہلی عالمی جنگ کے دور میں عثمانی ترکوں کے ہاتھوں قریب 1.5 ملین آرمینیائی باشندے مارے گئے تھے

اسی دوران برلن میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ایک ترجمان نے کہا کہ ترک جرمن تعلقات اتنے مضبوط ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کے اختلاف رائے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفن زائبرٹ نے کہا، ’’ترکی اور جرمنی کے مابین روابط بہت وسیع اور بہت گہرے ہیں۔ یہ تعلقات کسی بھی طرح کے اختلاف رائے کا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہو گا۔‘‘

بہت سے مؤرخین کا کہنا ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے دور میں عثمانی ترکوں نے جن قریب 1.5 ملین آرمینیائی باشندوں کو ہلاک کیا تھا، انہیں متعدد محققین 20 ویں صدی کی ’پہلی نسل کشی‘ قرار دیتے ہیں۔

اس کے برعکس سلطنت عثمانیہ کی جانشین ریاست کے طور پر موجودہ ترکی شروع ہی سے یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اب بھی اس کا اصرار یہی ہے کہ یہ قتل عام کوئی ’نسل کشی‘ نہیں تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات