1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی اور ویتنام میں اسٹریٹیجک شراکت کا معاہدہ طے پاگیا

جرمنی اور ویتنام کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت کا معاہدہ طے پاگیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک تجارت و سرمایہ کاری سمیت دیگر کئی شعبوں میں ایک دوسرے سے قریبی تعاون کریں گے۔

default

ویتنام کے اپنے اولین دورے پر موجود جرمن چانسلر انگیلا میرکل کاکہنا ہے کہ ان کا ملک ویتنام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ دارالحکومت ہنوئے میں صحافیوں سے بات چیت میں چانسلر میرکل نے کہا کہ جرمنی ویتنام کی آزاد بازار سے منسلک معیشت بننے اور یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کا بھی حامی ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین کے ساتھ یہ تجارتی معاہدہ جنوب مشرقی ایشیاء کی اس چھوٹی ریاست کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاملے پر مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے مگر اسے تاحال حتمی شکل نہیں دی گئی۔

ویتنام خطے میں اقتصادی ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے مگر افراط زر کی بلند شرح اور تجارتی عدم توازن جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ جرمنی یورپ میں ویتنام کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گزشتہ سال قریب چھ ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت ہوئی تھی۔

Vietnam Merkel Nguyen Tan Dung Hanoi

اس چار روزہ دورے میں جرمن چانسلر منگولیا بھی جائیں گی

میرکل کے بقول، ’ویتنام نے 2020ء تک ایک صنعتی ملک بننے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے اور جرمنی اس عمل میں معاونت کا خواہش مند ہے­‘۔ ویتنام میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بعض جرمن کمپنیوں کے خدشات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے ہنوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی کمپنیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔ چانسلر نے اس موقع پر ویتنام میں انسانی حقوق کے احترام اور صحافت کی آزادی پر بھی زور دیا۔

ویتنام کے وزیر اعظم نگوین تان ڈُنگ Nguyen Tan Dung نے اس موقع پر کہا کہ جرمنی کے ساتھ تجارت میں وسعت کے امکانات خاصے روشن ہیں۔ ویتنام کی مجموعی برآمدات کا دو فیصد جرمنی سے حاصل ہوتا ہے۔ جرمن چانسلر نے ویتنام میں ترقی و بہبود کے کاموں کے لیے 467 ملین یورو کی معاونت کا اعلان بھی کیا۔

اس چار روزہ دورے میں جرمن چانسلر منگولیا بھی جائیں گی۔ یہ کسی بھی جرمن سربراہ مملکت کا منگولیا کا پہلا دورہ ہوگا۔ منگولیا روانگی سے قبل جرمن چانسلر کہہ چکی ہیں کہ یہ ملک خام قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اس شعبے میں دو طرفہ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM