1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی اور بھارت ’قدرتی ساتھی‘ ہیں، مودی

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے توانائی کے شعبے کے علاوہ جرمنی کی بھارت میں سرمایا کاری کی رفتار تیز کرنے سے متعلق متعدد سمجھوتوں پر دستخط کر دیے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ جرمنی اور بھارت ’قدرتی ساتھی‘ ہیں اور مستقبل میں دونوں ممالک باہمی اور اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کریں گے۔

میرکل نے اپنے روزہ دورہ بھارت کے دوران بروز پیر نئی دہلی حکومت کے ساتھ نہ صرف متعدد اہم سمجھوتوں کو حتمی شکل دی بلکہ باہمی تعاون کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جرمن چانسلر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحٰی وفد بھی ہے، جس میں شریک نمائندوں نے اپنے متعلقہ بھارتی عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

سن 2014 میں ہندو قوم پرست رہنما نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد میرکل کا یہ پہلا دورہ بھارت ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ میرکل نے اس دورے کے دوران پیر کو نئی دہلی میں مودی کے ساتھ طویل مذاکرات کیے۔ اس دوران جرمنی نے بھارتی حکومت کے ساتھ مجموعی طور پر اٹھارہ منصوبوں کو حتمی شکل بھی دی۔

میرکل کے ساتھ تین گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد مودی نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہم اقتصادی ترقی کے لیے جرمنی کو اپنا ایک فطری پارٹنر سمجھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی ترجیحات اور جرمنی کی مہارتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مودی کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کا تعاون ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کی کوششوں میں مدد دے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے حوالے سے دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

Indien Angela Merkel und Narendra Modi in Neu-Delhi

سن 2014 میں ہندو قوم پرست رہنما نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد میرکل کا یہ پہلا دورہ بھارت ہے

بھارت میں افسر شاہی کا مضبوط نظام وہاں غیر ملکی سرمایا کاری کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔ متعدد مغربی ممالک اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ لیکن مودی نے عہد کیا ہے کہ وہ ان رکاوٹوں کو دور کر دیں گے۔ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے بھی کہا ہے کہ بھارت میں سرمایا کاری کے تناظر میں جرمن کمپنیوں کو تحفظات لاحق ہیں کیونکہ وہاں بیوروکریسی کے باعث متعدد مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

چانسلر انگیلا میرکل اور جرمن وفد منگل کے دن بنگلور میں مودی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اس دوران ایک بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس میں بھارتی اور جرمن کمپنیوں کے اعلیٰ نمائندے مختلف منصوبوں پر بات چیت بھی کریں گے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل منگل کے دن ہی دورہ بھارت ختم کرتے ہوئے وطن واپس روانہ ہو جائیں گی۔