1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمنی الیکٹرک کاروں کے بارے میں سنجیدہ

جرمن حکومت کی کوشش ہے کہ سن2020ء تک شاہراہوں پرالیکٹرک کاروں کی تعداد ایک ملین ہو جائے۔ اس مقصد کے لئے جرمن حکام نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کوششیں تیز کر دی ہیں۔

default

اس مقصد کے لئے جرمن وفاق، اقتصادی کارکردگی میں گرم بازاری کے لئے منظور کردہ مالیاتی پروگرام میں سے قریب پانچ سو ملین یورو مہیا کرے گا تاکہ الیکٹرک یا برقی کاروں کی تیاری اور ملکی مارکیٹوں میں ان کی مقولیت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ اس پروجیکٹ کے لئے آٹھ ماڈل علاقوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں برلن پوٹسڈام کا علاقہ بی شامل ہے۔

ایک ہلکی سی کلک اور بس۔ آواز تو جیسے آتی ہی نہیں، رولف باور جب اپنی سمارٹ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہیں تو احساس یہی ہوتا ہے۔ یہ اکہتر سالہ جرمن شہری، اُن اولین جرمن باشندوں میں شامل ہے جو برلن میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، تجربے کے طور پر چلاتے ہیں۔ شروع کے آٹھ ہفتوں کے بعد روولف باور کا کہنا ہے : ’’ زبردست، یہ گاڑی تو اتنی تیزی سے چلتی ہے کہ جیسے فائر بریگیڈ کی گاڑی۔ اسے چلاتے ہوئے انسان کو بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔ کسی بناوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اس گاڑی کے انجن سے کوئی دھواں نہیں نکلتا۔ ‘‘

الیکٹرک طرز کی یہ سمارٹ کارکسی آلودگی کا باعث نہیں بنتی، اس کی وجہ سے کوئی بُو بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اور اس پہلے کہ اسے دوبارہ چارج کرنے کے لئے کسی الیکٹرک سوئچ بورڈ کے ساتھ جوڑا جائے یہ ایک سو پچاس کلو میٹر کا فاصلہ آسانی سے طے کر لیتی ہے۔

Dossierbild zum Thema Elektroautos 1

الیکٹرک طرز کی یہ سمارٹ کارکسی آلودگی کا باعث نہیں بنتی

جرمن دارالحکومت میں اس ایسی الیکٹرو کاروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد سو کے قریب بنتی ہے ، جو اپنے ڈرائیوروں کوخامشی سے ان کی منزلوں تک پہنچا دیتی ہیں۔ پروگرام یہ ہے کہ اگلے دس برسوں میں یہ تعداد ایک لاکھ ہو جانی چاہئے۔

بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لئے اگر الیکٹرو کارکی اصطلاح استعمال کی جائے تو جرمن حکومت کی خواہش یہ ہے کہ الیکٹرو موبلٹی کے حوالے سے برلن کا کردار ، قائدانہ ہونا چاہیے۔

اس سلسلے میں تجربے اور ترمیم کا عمل مسلسل جاری ہے۔ اس بارے میں سب سے باخبر شخصیت ٹوماس مائسنر کی ہے۔ وہ برلن میں الیکٹرو کار کے حوالے سے اور چند دیگر شعبوں میں بھی مختلف منصوبوں کو آپس میں منظم کرنے کا کام کرتے ہیں اورجرمن دارالحکومت میں ٹیکنالوجی فاونڈیشن کے ایک ذیلی شعبے کے سربراہ ہیں ۔ وہ کہتے ہیں: ’’ بی موبلٹی نامی منصوبہ شرو ع ہو چکا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک خاص طرح کی کار شیئرنگ ہے، جس میں صرف الیکٹرو کاریں استعمال کی جاتی ہیں۔ لیکن اس منصوبے کے تحت بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کو بھی عام کرنے کا کام جاری ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ مستقبل میں اسی منصبوبے میں نقل و حمل کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں میں بھی شامل کرلیا جائے۔ اس کا مطلب ہو گا کہ الیکٹرک مال بردار گاڑیاں جو چھوٹے تاجروں کواشیا کی ترسیل کے لئے بھی استعمال ہو سکیں اور ایکسپریس کارگو سروس کے شعبے کے لئے بھی دلچسپی کا باعث ہوں۔‘‘

پروگرام کے مطابق برلن میں مال برداری اور رینٹ اے کارکے شعبے میں بھی اولین الیکٹروکاریں استعمال میں آنا شرو ع ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ یہ کوشش بھی کی جا رہی ہےکہ برلن میں ہی بجلی کی ترسیل کا کام کرنے والی بڑی بڑی کمپنیاں اور مختلف کار ساز ادارے بھی اسی ٹیکنالوجی کے تجربات کرنا شروع کر دیں۔ سمارٹ کار کا منصوبہ بھی اسی پروجیکٹ کا حصہ ہے جسے جرمن کار ساز ادارے ڈائملر نے بجلی کی ترسیل کا کام کرنے والے ادارے آر ڈیلیو ای کے ساتھ مل کر شروع کیا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی کے ہی ایک اور کار ساز ادارے بی ایم ڈبلیو نے بھی فاٹن فال نامی الیکٹرک کمپنی کے ساتھ مل کر برلن میں پچاس منی کہلانے والی کاریں شاہراہوں پر لانے کا ارادہ بنایا ہے ، اس کے لئے شہر بھر میں ان گاڑیوں کی بیٹریوں کو چارج کرنے کے لئے قائم کئے گئےاسٹیشوں کی تعداد پانچ سو پچاس ہو گی۔

کاروباری تجارتی اداروں کی مشاورت کرنے والی ایک بین الاقومی کمپنی میکنزی کے گاڑیوں سے متعلقہ امور کے ایک ماہر کرسٹیان مالورنی کہتے ہیں یہ کوئی خواب نہیں بلکہ عنقریب ایک حقیقت بن جائے گی کہ برلن کی سڑکوں پرالیکٹرو گاڑیوں کی تعداد ایک لاکھ تک ہو جائے گی۔

کرسٹیان مالورنی کے مطابق: ’’ ہماری رائے میں برلن اس منصوبے کے لئے سب سے مناسب جگہ ہے، جرمن دارالحکومت اس سلسلے میں صحت مند مقابلے کے ساتھ خود کو میگا سٹی کہلانے والے بڑے شہروں کی صف میں بین الاقوامی سطح پر انتہائی آگے لا سکتا ہے۔ ایسی تقریبا ایک لاکھ گاڑیوں کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام ایک ہی جگہ پر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے برلن کے ٹمپل ہوف یا ٹیگل ائیر پورٹ تک کا استعمال بھی ممکن ہے۔‘‘

Dossierbild zum Thema Elektroautos 2

ان کاروں کو بہت آسانی سے چارج کیا جا سکےگا

اس کے برعکس جرمنی میں موٹر گاڑیوں کے زیادہ ماحول دوست استعمال کی وکالت کرنے والے آٹو موبیل کلب وی سی ڈی کے ایک ماہر گیرڈ لاٹزیپن کہتے ہیں کہ اس حوالے سے فوری طور پر بہت خوشی امیدی بھی غلط ہوگی۔

گیرڈ لاٹزیپن کہتے ہیں:’’ اگر یہ کہا جائے کہ اگلے چند برسوں میں یہ مقاصد حاصل کر لئے جائیں گےتو اس کا مطلب غلط توقعات کی حوصلہ افزائی ہو گا۔ اکثر کہا یہ جاتا ہے کہ الیکٹرو کاروں کے ذریعے آمد ورفت کا زمانہ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ اور جیسے جملہ مسائل حل کر لئے گئے ہیں۔ لیکن ابھی تک عام صارف کسی ایک بھی بڑی موٹر ساز کمپنی کے کسی شو روم میں جا کر کوئی الیکٹرو کار نہیں خرید سکتا۔

ایسی اولین کاریں اس سال کے آخر تک مارکیٹ میں آئیں گی۔ یہ کاریں جاپانی ہوں گی جن کی قیمت تیس ہزار یورو سے بھی کافی زیادہ ہو گی اور یہ کاریں ہوں گی بھی قدرے چھوٹی۔ یہ بات ہر کسی کو پتہ ہونی چاہئے، لہذا اگلے قریب دس برسوں میں نجی ملکیت میں سڑکوں پر آنے والی الیکٹرو کاروں کی وجہ سے تحفظ ماحول کی کوششوں پر تو کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑے گا۔‘‘

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM