1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: اسلام مخالف تنظیم ’پیگیڈا‘ کی دوسری سالگرہ

غیر ملکیوں اور اسلام مخالف جرمن تنظیم’ پیگیڈا‘ آج اپنے قیام کی دوسری سالگرہ منا رہی ہے۔ پیگیڈا کے بیان کے مطابق اتوار کے روز اس سلسلے میں ڈریسڈن کے تھیٹر اسکوائر پر ایک اجتماع کا اہتمام کیا گیا ہے۔

پیگیڈا کے دوسری سالگرہ کے موقع پر اس تنظیم کے مخالفین کی جانب سے بھی ایک مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈریسڈن پولیس کے سربراہ نے تمام افراد سے پرامن رہنے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ PEGIDA یعنی مغربی دنیا کی اسلامائزیشن کے خلاف بین الیورپی اتحاد نامی اس تنظیم کا صدر دفتر ڈریسڈن میں قائم ہے اور اسی شہر سے اس کی ابتدا ہوئی تھی۔ اکتوبر 2014ء میں ایسے افراد کی تعداد چند سو تھی، جو جرمن شہر ڈریسڈن میں اسلام مخالف اور غیر ملکیوں سے نفرت کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پر آئے تھے۔ بہت جلد ہی یہ ہزاروں ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ پیگیڈا نامی یہ تنظیم مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔

Deutschland Dresden Pegida Lutz Bachman (picture-alliance/dpa)

لٹُس باخ مان کہتے ہیں ’’ہم نے پیگیڈا کو یورپ کی سب سے بڑی عوامی تحریک بنا دیا ہے‘‘

تاہم اب یہ تنظیم ابھی بھی موجود ہے لیکن اس کی شہرت اب ویسی نہیں ہے، جیسی 2015ء کے آغاز میں تھی۔ اس کی ایک وجہ سماجی ویب سائٹس پر اس تنظیم کے بانی لٹُس باخ مان کی وہ تصاویر تھیں، جن میں وہ نازی آمر آڈولف ہٹلر کا روپ دھارےہوئے تھے۔ 

لٹُس باخ مان آج کل ہسپانوی تفریحی مقام ’ٹینرائف جزائر‘ پر زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی کوششوں میں کامیاب رہے ہیں، ’’ہم نے پیگیڈا کو یورپ کی سب سے بڑی عوامی تحریک بنا دیا ہے۔‘‘ پیگیڈا کے جلسے جلوسوں میں وہ کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ٹینرائف جزائر پر کاروبار کر رہے ہیں۔ لٹس باخ مان کا ایک نعرہ ہے’’جو جرمنی سے پیار نہیں کرتا اسے یہ ملک چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘

ماہرین کہتے ہیں کہ پیگیڈا کے حامی اب بھی ڈریسڈن میں سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ ابھی بھی وہ غیر ملکیوں اور اسلام کے خلاف نعرے لگاتے ہیں تاہم ان نعروں کی گونج اور شدت میں واضح کمی آ چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ بائیں بازو اور شہری حقوق کی ان تنظیموں کی جانب سے پیگیڈا کے خلاف نکالے جانے والے جلوس ہیں، جن میں زیادہ بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔